کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس: متاثرہ خاندان نے خاتون وکیل دیپکا راجاوت کو ہٹایا، بتائی یہ وجہ

کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گائوں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نزدیکی جنگل گئی ہوئی تھی

Nov 15, 2018 01:39 PM IST | Updated on: Nov 15, 2018 01:39 PM IST
کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس: متاثرہ خاندان نے خاتون وکیل دیپکا راجاوت کو ہٹایا، بتائی یہ وجہ

خاتون وکیل دیپکا سنگھ راجاوت کی فائل فوٹو

 وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کی متاثرہ آٹھ سالہ کمسن بچی کے والد محمد یوسف پجوال نے اس کیس کی بدولت راتوں رات شہرت پانے والی خاتون وکیل دیپکا سنگھ راجاوت کو اس کیس سے فارغ کردیا ہے۔ فارغ کئے جانے کی وجہ دیپکا راجاوت کی کیس میں مبینہ عدم دلچسپی بتائی جارہی ہے۔ محمد یوسف پجوال نے گذشتہ روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت جہاں کیس کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے، میں ایک درخواست جمع کرائی جس میں دیپکا راجاوت سے پاور آف اٹارنی کے اختیارات واپس لینے کی خواہش ظاہر کی گئی۔

عدالتی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے درخواست کو منظوری دی ہے اور دیپکا راجاوت جو شکایت کنندہ (محمد یوسف) کی طرف سے پرائیویٹ کونسل مقرر کی گئی تھیں، کو کیس سے الگ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ استغاثہ کی طرف سے کیس کی پیروی دو اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرس سنتوک سنگھ بسرا اور جگ دیش کمار چوپڑا کر رہے ہیں جبکہ متعدد دیگر وکلاءبشمول کے کے پوری، ہربچھن سنگھ اور مبین فاروقی انہیں اسسٹ کررہے ہیں۔ دیپکا راجاوت کا کیس سے ہٹانے جانے پر کہنا ہے کہ ان کے لئے پٹھان کوٹ عدالت میں ہر روز حاضر ہونا مشکل تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیس کی باگ ڈور سینئر وکلاءکے محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ تاہم دیپکا راجاوت کے برعکس ملزمان کے وکلاء بالخصوص اے کے ساونی عدالت میں مسلسل پیش ہورہے ہیں۔

دیپکا راجاوت کو اس کیس کی بدولت غیرمعمولی شہرت ملی ہے اور انہیں گذشتہ دس ماہ کے دوران متعدد ایوارڈ حاصل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں متعدد کانفرنسوں میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا۔ محمد یوسف پجوال نے ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت میں پیش کی گئی درخواست میں کہا ہے 'میں نے دیپکا سنگھ راجاوت کو اپنا وکیل مقرر کیا تھا اور انہیں کیس کے سلسلے میں پاور آف اٹارنی کے اختیارات دیے تھے۔ استغاثہ کی طرف سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرس شری ایس ایس بسرا اور جگ دیشور کمار چوپڑا کیس کی پیروی کررہے ہیں اور انہیں شری کے کے پوری، شری ہربچھن سنگھ، مبین فاروقی اور دوسرے وکلاءاسسٹ کررہے ہیں۔ میں کیس کی پیش رفت سے مطمئن ہوں'۔ محمد یوسف کی درخواست کے مطابق دیپکا گذشتہ پانچ ماہ کے دوران صرف دو یا تین مرتبہ عدالت میں حاضر ہوئیں اور کہتی ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے 'سپریم کورٹ کے حکم پر پٹھان کوٹ عدالت میں کیس کی ٹرائل گذشتہ پانچ ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ دیپکا سنگھ راجاوت اس دوران صرف دو یا تین بار عدالت میں حاضر ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے'۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے 'ان کے (دیپکا کے) خدشے اور عدالت میں حاضر نہ ہونے کے پیش نظر میں دیپکا سنگھ کو دی گئی پاور آف اٹارنی واپس لیتا ہوں اور وہ اب میری وکیل نہیں ہوگی'۔ محمد یوسف نے پٹھان کوٹ عدالت کے احاطے میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ کیس کی اب تک 110 سماعتیں ہوچکی ہیں اور دیپکا راجاوت محض دو مرتبہ عدالت میں حاضر رہیں۔

ان کا کہنا تھا 'میں آج پٹھان کوٹ اس لئے آیا تھا کیونکہ دیپکا جی کو کیس سے ہٹانا تھا۔ میری طرف سے (استغاثہ کی طرف سے) اس وقت کیس کی پیروی مبین فاروقی، بسرا صاحب، چوپڑا صاحب اور دوسرے کئی وکلاءکررہے ہیں۔ کیس صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ وہ یہ سب میڈیا میں کہتی ہیں۔ ہم اس کو کیوں خطرے میں ڈالیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے کیس سے ہٹا دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اندرا جی (اندرا جے سنگھ) اور ان کی ٹیم کیس کو صحیح سے آگے بڑھا رہی ہیں'۔ وہیں، دیپکا راجاوت نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ ان کے لئے پٹھان کوٹ عدالت میں ہر روز حاضر ہونا مشکل تھا۔

Loading...

انہوں نے لکھا 'میرے لئے پٹھان کوٹ عدالت میں ہر روز حاضر ہونا مشکل تھا۔ مجھے جموں میں بھی (دوسرے کیسوں میں) اپنے پیشہ ورانہ وعدوں کو نبھانا ہے۔ متاثرہ کمسن بچی کا کیس پٹھان کوٹ عدالت میں سینئر وکلاءکے محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ سب سے بڑھ کر مجھے عدالت کے انصاف پر پورا بھروسہ ہے۔ مجھے باوقار بقا کے لئے ہر روز کام کرنا ہے۔ اگر میں جموں میں (اپنے دوسرے کیسوں) کی پیروی نہیں کروں گی تو میرے اور میری بیٹی کے لئے مشکل بھرے دن آسکتے ہیں۔ میں نے کٹھوعہ کیس میں اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی ہے۔ اب اگر وہ (متاثرہ بچی کے والدین) میری خدمات نہیں چاہتے ہیں تو میں اپنی خدمات تھوپ نہیں سکتی۔ کیس کا سخت مرحلہ گذر چکا ہے۔ کیس اب پٹھان کوٹ عدالت میں پرامن ماحول میں آگے بڑھ رہا ہے۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ ملزمان کو سزائیں سنائی جائیں گی'۔

دیپکا راجاوت نے فیس بک پوسٹ کے بعد ایک ویڈیو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ صرف دو مرتبہ  پٹھان کوٹ عدالت میں حاضر ہوئیں۔

انہوں نے کہا 'دو تین چیزیں بہت ضروری ہیں۔ کیس کی پیروی دو سینئر پبلک پراسیکیوٹر بسرا صاحب اور چوپڑا صاحب کررہے ہیں۔ یہ وہ وکلاءہیں جو کرمنل کیسوں سے نمٹنے کے ماہر ہیں۔ استغاثہ کی طرف سے یہ وکلاءٹرائل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ کیس محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ میں اس بات کا اعتراف کرتی ہوں کہ میں پٹھان کوٹ صرف دو بار گئی ہوں۔ جب مجھے لگا کہ ٹرائل پرامن ماحول میں جاری ہے، وکلاءبہت اچھا کام کررہے ہیں، 100 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے جاچکے ہیں، تو مجھے لگا کہ میں اب تھوڑا آرم کرسکتی ہوں۔ مجھے لگا کہ میں اب جموں میں اپنا کام دیکھ سکتی ہوں'۔

کٹھوعہ کیس سے راتوں رات شہرت پانے والی دیپکا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کیس کے نام پر کوئی پیسہ نہیں کمایا۔ ان کا کہنا ہے 'جب فروری میں، میں نے اس کیس کو ہاتھ میں لیا، تب اس کیس کو لینے والا کوئی نہیں تھا۔ مجھ پر الزامات لگائے جارہے ہیں کہ میں نے کٹھوعہ کیس کے نام پر پیسے کمائے۔ اگر کوئی ثابت کرے گا کہ میں نے اس کیس کے ذریعے پیسے کمائے ہیں تو میں اپنی لائسنس سرینڈر کردوں گی۔ سچ تو یہ ہے کہ میں مالی طور پر کمزور ہوئی ہوں'۔

واضح رہے کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گائوں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نزدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولیس نے مئی کے مہینے میں واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گائوں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیا تھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

Loading...