உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک: اسکول کے کلاس روم میں طلبہ کا نماز پڑھتے Video ہوا وائرل، ہندو تنظیموں نے مچایا ہنگامہ، جانیے پوری تفصیل

    کلاس روم میں نماز کی اجازت دینے پر ہیڈ مسٹریس کو کیا گیا معطل۔ (علامتی تصویر)

    کلاس روم میں نماز کی اجازت دینے پر ہیڈ مسٹریس کو کیا گیا معطل۔ (علامتی تصویر)

    بی ای او گری راجیشوری دیوی نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ہم نے جانچ کرنے کے لئے اسکول میں چار رکنی ٹیم بھیجی تھی اور یہ پایا ہے کہ ہیڈمسٹریس نے جمعہ کو اسکول میں طلبہ کو نماز ادا کرنے کی اجازت دے کر غلطی کی ہے۔

    • Share this:
      بنگلورو:کرناٹک (Karnataka) کے کولار ضلع میں ایک سرکاری اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو مسلم طلباء کو کلاس میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ہندو تنظیموں نے اس معاملے پر اپنا غصہ ظاہر کیا تھا۔ جمعہ کے روز، کلاس میں طالب علموں کی نماز پڑھنے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، ہندو تنظیموں نے غصے میں احتجاج کیا۔ ہندو تنظیموں کے ارکان سرکاری کنڑ ماڈل اسکول میں گھس گئے تھے۔ جس کے بعد ضلع انتظامیہ نے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ ایجوکیشن آفیسر نے اسکول کی ہیڈ مسٹریس اوما دیوی کو معطل کر دیا۔

      بی ای او گری راجیشوری دیوی نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ہم نے جانچ کرنے کے لئے اسکول میں چار رکنی ٹیم بھیجی تھی اور یہ پایا ہے کہ ہیڈمسٹریس نے جمعہ کو اسکول میں طلبہ کو نماز ادا کرنے کی اجازت دے کر غلطی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم طلبہ کو بریک کےد وران نماز ادا کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس کے لئے وہ آس پڑوس کی کسی مسجد میں جاتے ہیں۔

      انہوں نے کہا کہ عموماً طلبہ نماز کے بعد واپس آتے ہیں۔ لیکن اسکول کے احاطے میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے ہم نے ہیڈ مسٹریس کو معطل کر دیا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں کسی قسم کی مذہبی عبادت کا کوئی پروویژن نہیں ہے۔ اس لیے یہ کارروائی کی گئی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: