ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فساد: معصوم بچی نےکی لوگوں سے جذباتی اپیل، وائرل ہوا ویڈیو

بچی نےکہا 'آپ لوگ لڑو اور ہم کو سمجھاؤ، ایسی تھوڑی ہوتا ہے۔ آپ لوگ لڑوگےتو ہم کو بھی برا لگےگا۔ میری دعا ہےکہ کوئی لڑائی جھگڑا نہیں۔

  • Share this:
دہلی فساد: معصوم بچی نےکی لوگوں سے جذباتی اپیل، وائرل ہوا ویڈیو
معصوم بچی نے سبھی سے امن وامان کی اپیل کی ہے۔

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں گزشتہ دنوں دہلی فسادات کے بعد جاری خوف کے ماحول کے درمیان ایک بچی کا ویڈیو کافی وائرل ہورہا ہے۔ اس ویڈیو میں بچی سبھیسے امن وامان کی اپیل کر رہی ہے۔ ویڈیو میں بچی نے بڑی معصومیت سےکہا ہے۔ 'آپ بڑے لوگ تو ہم بچوں کو نا جھگڑنے کےلئےکہتے ہیں، پھر آپ آپس میں کیوں لڑ رہے ہیں؟ تقریباً دو منٹ کے ویڈیو میں بچی نے سبھی سے امن وامان کی اپیل کرتے ہوئےکہا کہ جن کے بھی گھر اس جھگڑے میں جلے ہیں، خدا ان کی مدد کرے۔


بچی نےکہا، 'آپ لوگ لڑو اور ہم کو سمجھاؤ، ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔ آپ لوگ لڑوگےتو ہم کو بھی برا لگےگا۔ میری دعا ہےکہ کوئی لڑے جھگڑے نہیں'۔ بچی نےکہا کہ میرا امتحان ختم ہوگیا ہے، ایسے میں جب صبح پاپا اورماں کےساتھ خبریں دیکھتی ہوں تو پتہ چلتا ہےکہ دہلی میں لوگ لڑ رہےہیں۔ بچی نے کہا کہ 'اب کوئی گھرنہ جلے،کوئی بیمارنہ ہو... کسی کو کوئی نقصان نہ ہو، ہمیں دیکھ کرافسوس ہوتا ہےکہ لوگوں کا گھر جل رہا ہے... سب لوگ ٹھیک ہوجائیں اور امن وامان قائم ہو۔ یہی میری دعا ہے، 'بچی نےکہا، 'میں یہ بات سب سےکہہ رہی ہوں۔ اگرکسی ایک کو میری بات سمجھ میں آئی ہو تووہ سب کو سمجھائیں۔ بچی نےکہا 'میں یہ دعا کرنا چاہتی تھی کہ سب کو ٹھیک رکھنا۔ ہمیں دیکھ کرکتنا افسوس ہوتا ہےکہ کتنا افسوس ہوتا ہےکہ کتنے لوگوں کوگھرجل رہا ہے۔ کتنےلوگوں کوگھرجل رہا ہے۔ سب طرف امن وچین ہو۔


https://www.facebook.com/100014835514496/videos/822006554970521/


شمال مشرقی دہلی کے حالات پُرامن

واضح رہےکہ شمال مشرقی دہلی کے فساد متاثرہ علاقوں میں ہفتہ کو حالات پُرامن رہے۔ ان علاقوں میں اب معمولات زندگی دھیرے دھیرے پٹری پر لوٹنےلگی ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کی وسیع پیمانے پرگشت کےدرمیان کھلی کچھ دکانوں سےکرانےکا سامان اور دوائیاں خریدنے کےلئےلوگ اپنے گھروں سے باہرنکلے۔ مقامی باشندہ اس ہفتےکی شروعات میں علاقے میں ہوئے تشددکے سبب ہوئے نقصان سے دھیرے دھیرے ابھرنےکی کوشش کر رہے ہیں۔ شمال مشرقی دہلی کےجعفرآباد، موجپور،بابرپور، چاند باغ،مصطفیٰ آباد، بھجن پورہ،شیو وہار،یمنا وہار وغیرہ سب سے زیادہ تشدد سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ تشدد میں 42 لوگوں کی موت ہوئی ہےاور 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ تشدد کے دوران جائیداد کوکافی نقصان پہنچا ہے، پُرتشدد بھیڑنےمکانات، دکانوں،گاڑیوں، پٹرول پمپ کو پھونک دیا اورمقامی لوگوں اورپولیس اہلکاروں پرپتھراؤکیا۔

امتحانات منعقد کرانے کےلئےحالات ٹھیک نہیں

فرقہ وارانہ فسادات میں سب سے بری طرح متاثر ان علاقوں میں گزشتہ پانچ دنوں کے موازنہ میں سڑکوں پر زیادہ گاڑی اور لوگ نظر آئے۔ کئی علاقوں میں میونسپل کارپویشن کے ملازمین کو اینٹ، شیشےکے ٹکڑے اورجلی ہوئی گاڑیوں کو ہٹاتے دیکھا گیا۔ کچھ مقامات پر،کچھ مقامات پر، یہاں تک کہ بلڈوزرکا بھی استعمال کیا گیا کیونکہ ملبےکو ہاتھ سے ہٹانا مشکل تھا۔ دہلی پولیس اورنیم فوجی دستہ کے اہلکاروں نےلوگوں کو اپنی دکانیں کھولنے کےلئےترغیب دی اور امن وامان اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنےکی اپیل کی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے جعفرآباد میں فلیگ مارچ کیا اورموجپوراورپھر نور الٰہی، یمنا وہاراوربھجن پورکی سنکری گلیوں میں گئے، جہاں اس ہفتےکےشروع میں بھیڑ نے دوکانوں، مکانات اور گاڑیوں میں توڑ پھوڑکی اوران میں آگ لگا دی تھی۔

شمال مشرقی دہلی کے اسکول ابھی بند ہیں۔ تشددکےپیش نظر7 مارچ تک اسکول بند رہیں گے۔ افسران کےمطابق تشدد متاثرہ علاقوں میں امتحانات منعقدکرانےکےلئےحالات موافق نہیں ہے، اس لئےسالانہ امتحانات کو بھی ملتوی کردیا گیا ہے۔ سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نےحالانکہ کہا کہ 10 ویں اور 12 ویں کلاس کےلئے بورڈ امتحانات دو مارچ سے طے پروگرام کے مطابق منعقد کی جائیں گی۔
First published: Mar 01, 2020 10:27 AM IST