உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     دہلی میں تشدد: کینڈل مارچ کر رہی بھیڑ ہوئی بے قابو، پولیس پر پتھراو، گاڑیوں میں توڑ پھوڑ

    دہلی کے شاہدرہ میں جمعرات کی شام کو کینڈل مارچ نکال رہی بھیڑ نے پولیس پر اچانک حملہ کردیا۔ بھیڑ نے پولیس پر پتھراو کیا اور اس کے بعد پولیس گاڑیوں میں بھی توڑ پھوڑ کی۔

    دہلی کے شاہدرہ میں جمعرات کی شام کو کینڈل مارچ نکال رہی بھیڑ نے پولیس پر اچانک حملہ کردیا۔ بھیڑ نے پولیس پر پتھراو کیا اور اس کے بعد پولیس گاڑیوں میں بھی توڑ پھوڑ کی۔

    دہلی کے شاہدرہ میں جمعرات کی شام کو کینڈل مارچ نکال رہی بھیڑ نے پولیس پر اچانک حملہ کردیا۔ بھیڑ نے پولیس پر پتھراو کیا اور اس کے بعد پولیس گاڑیوں میں بھی توڑ پھوڑ کی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی کے شاہدرہ میں جمعرات کی شام کو کینڈل مارچ نکال رہی بھیڑ نے پولیس پر اچانک حملہ کردیا۔ بھیڑ نے پولیس پر پتھراو کیا اور اس کے بعد پولیس گاڑیوں میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ دراصل گاندھی نگر میں ایک خاتون کے قتل کے ملزم کو پھانسی کی سزا دینے کے مطالبہ کو لے کر لوگ کینڈل مارچ نکال رہے تھے۔ اس دوران بھیڑ اچانک بے قابو ہوگئی اور پولیس بیریکیٹیڈ توڑ کر آگے بڑھ گئی۔ اس دوران پولیس نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن ناراض بھیڑ نے پولیس پر پتھراو کردیا۔

      اس دوران پولیس نے بھیڑ کو ہٹانے کے لئے لاٹھیاں بھی چلائیں، جس کے بعد بھیڑ نے پولیس پی سی آر اور آس پاس کھڑی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ ساتھ ہی وہاں کھڑی کئی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے۔

      تھانے میں بھی گھس گئی بھیڑ

      ہنگامہ کر رہے کچھ لوگ گاندھی نگر پولیس تھانے میں بھی گھس گئے اور وہاں بھی پتھراو کرکے توڑ پھوڑ کی۔ حالانکہ بعد میں پولیس نے معاملے کو سنبھال لیا۔ اب پولیس ہنگامہ کرنے والے لوگوں کو پکڑنے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ وہیں پورے معاملے میں شاہدرہ کے ڈی سی پی ستیہ سندرم کا کہنا ہے کہ اب حالات معمول پر ہیں اور موقع سے پوری طرح سے بھیڑ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اس کینڈل مارچ کو آرگنائز کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جنہوں نے بھیڑ کو اکسایا اور ہنگامہ کو بڑھاوا دیا۔

      کرنا پڑا تھا طاقت کا استعمال

      بھیڑ نے جیسے ہی اچانک بیریکیٹ کو توڑا اور پتھراو شروع کیا تو پولیس نے لوگوں کو پہلے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن بھیڑ نہیں مانی۔ اس کے بعد پولیس کو ہلکی طاقت کا استعمال کرکے قابو میں کرنے کی کوشش کرنی پڑی۔ حالانکہ اس دوران بھی کچھ لوگ مسلسل پتھراو کرتے رہے۔ بعد میں پولیس نے بھیڑ کو لاٹھیاں چلاکر بھگایا اور ماحول کو قابو میں کیا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: