உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا کے بعد اب موسمی بخار اورڈینگو کے خطرے سے اسکول اور مدارس میں آف لائن تعلیم متاثر

    میرٹھ: کووڈ کے بعد اب موسمی بخار اورڈینگو کے خطرے سے اسکول اور مدارس میں آف لائن تعلیم متاثر

    میرٹھ: کووڈ کے بعد اب موسمی بخار اورڈینگو کے خطرے سے اسکول اور مدارس میں آف لائن تعلیم متاثر

    حکومت کی گائیڈ لائن کے تحت کلاس شروع کرنے کی اجازت دیئے جانے کے بعد سے اسکولوں میں کلاس روم تعلیم کی شروعات تو ہو گئی ہے، لیکن یو پی موسمی بخار کے ساتھ ڈینگو اورملیریا کے معاملوں میں آئی تیزی کے بعد بچوں کے والدین خوفزدہ ہیں۔ ساتھ ہی والدین بچوں کو اسکول بھیجنے کو لے کر ابھی پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    میرٹھ: کورونا کی دوسری لہر کے ختم ہونے کے ساتھ انفیکشن کے معاملوں میں تیزی سے آ رہی کمی کے بعد یو پی میں بھی حکومت سے پہلی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک کی آف لائن کلاس شروع کرنے کی اجازت دی تھی۔ حکومت کی گائیڈ لائن کے تحت کلاس شروع کرنے کی اجازت دیئے جانے کے بعد سے اسکولوں میں کلاس روم تعلیم کی شروعات تو ہو گئی ہے، لیکن یو پی موسمی بخار کے ساتھ ڈینگو اور ملیریا کے معاملوں میں آئی تیزی کے بعد بچوں کے والدین خوفزدہ ہیں۔

    ساتھ ہی والدین بچوں کو اسکول بھیجنے کو لے کر ابھی پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ خاص طور پر مدارس میں آف لائن تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد ابھی کافی کم ہے۔ سرکاری اسکولوں میں جہاں 50 فیصد بچے اسکول آکر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہیں پرائیویٹ اسکولوں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسکول کھولنے کے بعد اب دھیرے دھیرے بچوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے اور اُمید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہونے کے ساتھ بچوں کے والدین اس خوف سے باہر نکل کر پھر سے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے تیار ہوں گے۔

    واضح رہے کہ یو پی اور خاص طور پر مغربی یو پی میں موسمی بخار اورڈینگو کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور صوبے کے کئی شھروں میں بخار سے اموات کی تعداد بڑھی ہے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی رہی ہے، ایسے میں آف لائن تعلیم کی شروعات کے بعد اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لئے تیار ہوئے والدین ایک بار پھر سے خوف کے سائے میں ہیں اور بخار کے خطرات کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: