உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وراٹ کوہلی کی بیٹی کو ریپ کی دھمکی دینے والا شخص حیدرآباد سے گرفتار، IIT پاس آوٹ ہے ملزم

    وراٹ کوہلی کی بیٹی کو ریپ کی دھمکی دینے والا شخص حیدرآباد سے گرفتار، IIT پاس آوٹ ہے ملزم (Anushka Sharma/Instagram)

    وراٹ کوہلی کی بیٹی کو ریپ کی دھمکی دینے والا شخص حیدرآباد سے گرفتار، IIT پاس آوٹ ہے ملزم (Anushka Sharma/Instagram)

    Rape Threats to Virat Kohli Daughter Case: رام ناگیش شرینواسن کو ممبئی پولیس کی سائبرسیل نے حیدرآباد سے گرفتار کیا ہے ۔ رام ناگیش پیشہ سے سافٹ ویئر انجینئر ہے ۔ اس سے پہلے ایک فوڈ ڈیلیوری ایپ کیلئے سافٹ ویئر بنانے کا کام کرتا تھا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کی بیٹی کو ریپ کی دھمکی دینے والے شخص کو ممبئی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے ۔ 23 سالہ رام ناگیش شرینواسن کو ممبئی پولیس کی سائبرسیل نے حیدرآباد سے گرفتار کیا ہے ۔ رام ناگیش پیشہ سے سافٹ ویئر انجینئر ہے ۔ اس سے پہلے ایک فوڈ ڈیلیوری ایپ کیلئے سافٹ ویئر بنانے کا کام کرتا تھا ۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق رام ناگیش کو پولیس اب ممبئی لے کر آرہی ہے ۔ اس نے آئی آئی ٹی حیدرآباد سے بی ٹیک کیا ہے ۔ بتادیں کہ آئی سی سی ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں ٹیم انڈیا کی شکست کے بعد کپتان وراٹ کوہلی کو زبردست ٹرول کیا گیا تھا ۔ ان کی نو مہینے کی بیٹی کو بھی دھمکیاں دی گئی تھیں ۔

      اس پر دہلی خواتین کمیشن نے بھی دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا ۔ کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے ٹویٹ کیا تھا کہ جس طرح سے نو مہینے کی بچی کو ٹویٹر پر دھمکیاں مل رہی ہیں ، وہ واقعی شرمناک ہے ۔

      محمد سمیع کو بھی کیا گیا تھا ٹرول

      پاکستان سے شکست کے بعد ٹیم انڈیا کے تیز گیند محمد سمیع کو بھی سوشل میڈیا پر جم کر ٹرول کیا گیا تھا ۔ ان کے مذہب کو لے کر انہیں ٹرول کیا جارہا تھا ۔ وہیں نیوزی لینڈ سے ملی شکست کے بعد وراٹ کوہلی اور تقریبا پوری ٹیم انڈیا کو ہی سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا گیا تھا ۔

      بتادیں کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا ۔ اس سے پہلے آئی پی ایل 2020 کے دوران چنئی سپرکنگس کی خراب کارکردگی اور پلے آف سے باہر ہونے کے بعد مہندر سنگھ دھونی کی بیٹی کو بھی اس طرح کی دھمکیاں ملی تھیں ۔ سوشل میڈیا پر اس طرح کے برتاو اور دھمکیوں کی جم کر تنقید بھی کی گئی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: