உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وستارا ایئرلائنس پرDGCAکا ایکشن، اس وجہ سے کمپنی پر لگایا10لاکھ کا جرمانہ

    وستارا ایئرلائنس پر ڈی جی سی اے نے اس وجہ سے لگایا 10 لاکھ کا جرمانہ۔

    وستارا ایئرلائنس پر ڈی جی سی اے نے اس وجہ سے لگایا 10 لاکھ کا جرمانہ۔

    Vistara Airlines: ترجمان نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ پائلٹ کو مناسب طریقے سے ٹریننگ دی گئی تھی اور ان کے پاس سابق آجر کی طرف سے جاری کردہ ویلیڈ ایس ٹی او ایل (سپروائزڈ ٹیک آف اینڈ لینڈنگ) سرٹیفکیٹس تھے۔

    • Share this:
      Vistara Airlines:نئی دہلی: وستارا ایئر لائن پر صحیح طریقے سے تربیت یافتہ پائلٹس کو اندور ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہ دینے پر ایوی ایشن ریگولیٹر ڈی جی سی اے نے 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس فلائٹ کے فرسٹ آفیسر کے طور پر تعینات پائلٹ نے سمیلیٹر کی مطلوبہ تربیت حاصل کیے بغیر طیارے کو ہوائی اڈے پر اتارا تھا۔ اہلکار کے مطابق "یہ ایک سنگین خلاف ورزی تھی جس سے ہوائی جہاز میں سوار مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔" ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جہاز نے کہاں سے اڑان بھری تھی اور یہ واقعہ کب پیش آیا تھا۔ کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ واقعہ اگست 2021 کا ہے تاہم انہوں نے واقعے کی کوئی صحیح تاریخ بھی نہیں بتائی۔

      کسی اڑان کے فرسٹ افسر کے طور پر تعینات پائلٹ کو پہلے سمیولیٹر میں طیارے کو اتارنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ تب ہی وہ مسافروں کے ساتھ ہوائی جہاز کو اتارنے کا اہل سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہوائی جہاز کے کیپٹن کو بھی سمیولیٹر میں ٹریننگ لینا ضروری ہوتا ہے۔

      عہدیداروں نے بتایا کہ کیپٹن کے علاوہ وستارا کی اندور فلائٹ کے فرسٹ آفیسر نے بھی سمیلیٹر کی تربیت نہیں لی تھی۔ اس کے باوجود ایئرلائن نے فرسٹ آفیسر کو ایئرپورٹ پر طیارے کو اتارنے کی اجازت دی۔ یہی وجہ ہے کہ DGCA نے اس معاملے میں ایئر لائن کو قصوروار مانتے ہوئے اس پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      اتر پردیش کا بدلتا سیاسی منظر، اعظم خان کی عیادت کیلئے اسپتال پہنچے اکھلیش یادو، مچی ہلچل

      یہ بھی پڑھیں:
      Telangana News: کے سی آر کے جھوٹے وعدوں سے صحافی بھی محفوظ نہیں : غوث محی الدین

      وستارا کے ترجمان نے کہا کہ ٹیک آف اور لینڈنگ کا عمل ایک تجربہ کار کیپٹن کی نگرانی میں کیا گیا۔ ترجمان نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ پائلٹ کو مناسب طریقے سے ٹریننگ دی گئی تھی اور ان کے پاس سابق آجر کی طرف سے جاری کردہ ویلیڈ ایس ٹی او ایل (سپروائزڈ ٹیک آف اینڈ لینڈنگ) سرٹیفکیٹس تھے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: