پانی کےمعاملے میں دہلی کی صورتحال انتہائی تشویشناک، تمام ریاستوں کی یہ ہے صورتحال

وزیرآبی وسائل گجیندرسنگھ شیخاوت نے کہا کہ جو ریاست پیچھے رہ گئے ہیں، وہاں زیادہ زور لگانےکی ضرورت ہے۔ شیخاوت نے گراونڈ واٹرکولے کرتشویش کا اظہارکیا۔

Aug 24, 2019 11:09 PM IST | Updated on: Aug 24, 2019 11:09 PM IST
پانی کےمعاملے میں دہلی کی صورتحال انتہائی تشویشناک، تمام ریاستوں کی یہ ہے صورتحال

علامتی تصویر

مرکزمیں دوسری بارنریندرمودی حکومت بننےکےبعد سب سے زیادہ توجہ پانی کولےکرہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس بارپانی کی طاقت (جل شکتی) کےطورپرنئی وزارت تشکیل دی گئی ہے۔ سال 2024 تک ہرگھرتک پینے کا پانی پہنچانےکا ہدف ہے۔ جمعہ کونیتی آیوگ کی طرف سے کمپوزٹ واٹرمنیجمنٹ انڈیکس جاری کیا گیا۔ تشویش اورچیلنج کےدرمیان نیتی آیوگ اور وزارت آبی وسائل نےاعدادوشمارکےذریعہ ملک میں پانی کی صورتحال بتائی۔ انڈیکس کے اعدادوشماربتاتے ہیں کہ تین سال کے دوران 80 فیصد ریاستوں نےگزشتہ مرتبہ سےاس بار بہترکیا ہے۔

ریاستوں کی کارکردگی

Loading...

واٹرباڈیزکولےکربہترپرفارمنس (کارکردگی) کرنے والی ریاستیں مدھیہ پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو ہیں، وہیں گراونڈ واٹرکولےکرآندھرا پردیش، تمل ناڈو، مدھیہ پردیش اورہماچل پردیش نے جہاں بہترکام کیا ہے۔ جبکہ اترپردیش اوراتراکھنڈ، جھارکھنڈ کی صورتحال باعث تشویش ہے۔ اگر شہری عوام کوصاف ستھرا پانی مہیا کرانےکی بات کریں تومدھیہ پردیش، ہماچل پردیش، گجرات، گوا اوراتراکھنڈ اول رہےہیں۔ وہیں بہاراوراترپردیش کےحالات بہت خراب ہیں۔

پینے کے لئے پانی پہنچانے کا معاملہ

اسی طرح گاوں میں پینے کےلائق پانی پہنچانےکےمعاملے میں ہماچل پردیش، پڈوچیری، اورگجرات نےاچھا کام کیا ہے۔ ویں دہلی کی صورتحال اس معاملے میں سب سے خراب ہے۔ نیتی آیوگ کےسی ای اوامیتابھ کانت نےکہا کہ مغربی بنگال، میزورم، منی پوراورجموں وکشمیرنےپانی کولےکراپنی صورتحال نیتی آیوگ سے واضح نہیں کی ہے۔

Mission-pani-1

وہاں زیادہ زورلگانے کی ضرورت 

وزیرآبی وسائل گجیندرسنگھ شیخاوت نےکہا کہ جوریاستیں پیچھے رہ گئی ہیں، وہاں زیادہ زورلگانے کی ضرورت ہے۔ شیخاوت نےگراونڈ واٹرکولےکرتشویش بھی ظاہرکی۔ وزیرآبی وسائل نےکہا کہ واٹرمنیجمنٹ کولےکرجوانڈیکس جاری ہوا ہے، اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئےمرکزاورریاستی حکومتیں مزید بہترطریقےسے اورہم آہنگ طریقےسے کام کریں گی۔

نیٹ ورک 18 کے 'مشن پانی' کے ساتھ آپ بھی جڑیں۔

مودی حکومت کا ہدف

نیتی آیوگ کی  طرف سے جوگزشتہ رپورٹ جاری ہوئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سال 2020 تک ملک کے 21 شہرڈے زیرو ہوجائیں گے۔ یعنی گراونڈ واٹرکی بری حالت ہوجائے گی، یہ حکومت کےلئےباعث تشویش ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس بارپانی کی صورتحال  کو سدھارنےکےلئےعلیحدہ وزارت کی تشکیل ہوئی۔ مرکزی حکومت کا ہدف 2024 تک گاوں میں گھرگھرنل سے پانی مہیا کرانےکا ہے۔ جلد ہی حکومت آبی زندگی مشن (جل جیون مشن) کولےکربھی آگےقدم اٹھانے والی ہے۔ مرکزاورریاستیں مل کراس منصوبے پرکام کریں گے، جس پرتقریباً ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے۔

Loading...