உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Weather Update:شمالی ہند کے زیادہ تر ریاستیں لو کی چپیٹ میں،شدید گرمی کو لے کر دلی، بنگال اور اتراکھنڈ نے جاری کیا الرٹ

    شمالی ہند میں سورج نے بڑھائی شدت۔

    شمالی ہند میں سورج نے بڑھائی شدت۔

    Weather Update:چلچلاتی دھوپ اور گرمی نے بہار کی راجدھانی پٹنہ سمیت ریاست کے جنوبی حصوں میں تباہی مچا دی۔ بکسر 44.7 ڈگری سیلسیس کے ساتھ ریاست کا گرم ترین شہر تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: Weather Update:تیز ہواؤں اور سورج کی گرمی نے شمالی ہندوستان کی بیشتر ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ عالم یہ ہے کہ نہ صرف دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، پنجاب اور ہریانہ بلکہ پہاڑی ریاستوں اتراکھنڈ، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں بھی زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر گیا ہے۔ بدھ کو مدھیہ پردیش کے راج گڑھ میں ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ یہاں پارہ 45.6 تک پہنچ گیا تھا۔ دہلی، بنگال اور اتراکھنڈ نے چلچلاتی گرمی کو لے کر الرٹ جاری کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Loudspeaker Controversy:مذہب آزادی کےنام پر نہ ہو من مانی،دوسروں کوتکلیف دینامذہب میں نہیں

      محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہواؤں اور راجستھان سے آنے والی گرم ہوا کی وجہ سے گرمی کی لہر تباہی مچا رہی ہے۔ گرمیوں کا یہ حال ہے کہ سورج نکلنے کے چند گھنٹے بعد ہی درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گرمی کی لہر کے باعث لوگوں کا دن کے وقت گھروں سے نکلنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دہلی میں اگلے پانچ دنوں تک گرمی کی لہر سے راحت کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس کے پیش نظر 28 اپریل سے 2 مئی تک یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      قومی ترانے اورقومی گیت کے ساتھ اب بجایاجاسکے گاStateکابھی ترانہ، مرکز نے دی اصولی اجازت

      چلچلاتی دھوپ اور گرمی نے بہار کی راجدھانی پٹنہ سمیت ریاست کے جنوبی حصوں میں تباہی مچا دی۔ بکسر 44.7 ڈگری سیلسیس کے ساتھ ریاست کا گرم ترین شہر تھا۔ بہار میں بھی تین دن سے راحت کی امید نہیں ہے۔ اگر مشرقی ہوا زور پکڑتی ہے تو ہفتہ سے راحت مل سکتی ہے۔ پنجاب میں بھٹنڈہ سب سے زیادہ گرم (44.5 ڈگری) رہا۔ گرمی کی لہر یکم مئی تک ریاست کو پریشان کرے گی۔ جھارکھنڈ میں بھی گرمی کی لہر سے جلد چھٹکارا ملنے کی امید نہیں ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: