உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں ہفتہ واری کرفیو نافذ، تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا معاملوں کے پیش نظر ڈی ڈی ایم اے کی میٹنگ میں ہوا فیصلہ

    کورونا وبا کے معاملوں کی رفتار کو دیکھتے ہوئے دہلی میں ویکنڈ کرفیو (Weekend Curfew) نافذ ہوسکتا ہے۔ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) کی میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    کورونا وبا کے معاملوں کی رفتار کو دیکھتے ہوئے دہلی میں ویکنڈ کرفیو (Weekend Curfew) نافذ ہوسکتا ہے۔ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) کی میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    کورونا وبا کے معاملوں کی رفتار کو دیکھتے ہوئے دہلی میں ویکنڈ کرفیو (Weekend Curfew) نافذ ہوسکتا ہے۔ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) کی میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کورونا وبا کے معاملوں کی رفتار کو دیکھتے ہوئے دہلی میں ویکنڈ کرفیو (Weekend Curfew) نافذ ہوسکتا ہے۔ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) کی میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوسکتا ہے۔ دہلی میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا کے معاملات کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل دہلی میں نائٹ کرفیو نافذ ہے۔ ڈی ڈی ایم اے کی میٹنگ میں یہ فیصلہ بھی لیا گیا ہے کہ سرکاری دفاتر میں ضروری خدمات سے جڑے دفاتر کو چھوڑ کر سبھی لوگ ورک فرام ہوم کریں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ اداروں میں 50 فیصدی ورک فرام ہوم کرنے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔

      واضح رہے کہ دہلی میں کورونا کے بڑھتے معاملے کو دیکھ کر حکومت نے پہلے سے ہی نائٹ کرفیو لگانے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اس کے بعد بھی کورونا انفیکشن کی رفتار میں کمی نہ آنے کے پیش نظر اب ڈی ڈی ایم اے نے ویکنڈ کرفیو کا حکم جاری کیا ہے۔ اس کے تحت ضروری خدمات کو چھوڑ کر باقی سبھی دفاتر میں ورک فرام ہوم کے بھی احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

      ملک کی راجدھانی میں کورونا انفیکشن کی رفتار کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دہلی میں 8 جنوری کو آس پاس کورونا کے روز 8000 سے 9000 معاملے آسکتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سال کے پہلے ماہ کے دوسرے ہفتے سے دہلی میں روزانہ 15سے 20000 کورونا معاملے سامنے آسکتے ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے ہی حکومت نے اومیکران سے احتیاط برتنے کے سخت احکامات جاری کئے ہیں۔ ساتھ ہی راجدھانی میں رہنے والے لوگوں سے ماسک پہننے اور دو گز کی دودری کا ضابطہ ماننے کی اپیل کی جارہی ہے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: