ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

Assembly Elections 2021: مغربی بنگال۔آسام میں دوسرے مرحلے کےلیے ووٹنگ جاری،نندی گرام سیٹ پر ہیں سب کی نگاہیں

2016میں نندی گرام کی سیٹ سے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر شوبھندو ادھیکاری نے انتخاب میں حصہ لیا تھا۔مگر اب وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں اور اس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑرہے ہیں ۔ممتا بنرجی نے اپنی روایتی سیٹ بھوانی پور سے انتخاب لڑنے کے بجائے نندی گرام سے انتخاب لڑنے کا اعلان کرکے بی جے پی اور شوبھندو ادھیکاری کے سامنے چیلنج پیش کردیا ہے ۔

  • Share this:
Assembly Elections 2021: مغربی بنگال۔آسام میں دوسرے مرحلے کےلیے ووٹنگ جاری،نندی گرام سیٹ پر ہیں سب کی نگاہیں
بنگال میں 30 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے

مغربی بنگال اور آسام میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لئے ووٹنگ جاری ہے۔ بنگال میں 30 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے ۔ جس میں 75 لاکھ ووٹرز 191 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ اس مرحلے میں ، سب کی نگاہیں ہائی پروفائل نندی گرام سیٹ پر ہیں۔ یہاں ، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اپنے سابقہ ​​معاون اور بی جے پی امیدوار شوبھندو ادھیکاری کے خلاف میدان میں ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے تمام 10،620 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دے دیا ہے اور سینٹرل فورسز کی لگ بھگ 651 کمپنیاں تعینات کردی گئی ہیں۔ نندیگرام میں دفعہ 144 لاگو ہے۔اس کے ساتھ ہی آسام کی 39 نشستوں پر جاری ووٹنگ میں پانچ وزراء ، ڈپٹی اسپیکر اور اپوزیشن کے کچھ اہم رہنماؤں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں 26 خواتین سمیت 345 امیدوار میدان میں ہیں۔


ذرائع نے بتایا کہ سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی مجموعی طور پر 199 کمپنیاں مشرقی مدنی پور ، 210 کمپنیاں مغربی مدنی پور ، 170 ج جنوبی 24 پرگنہ اور 72 بانکوڑامیں تعینات ہوں گی۔ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی تمام 30 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہیں ، جبکہ 15 میں سی پی پی آئی اور بقیہ سیٹوں پر اتحاد کی دیگر جماعتیں بالترتیب کانگریس، سی پی آئی، فارورڈ بلاک،آر ایس پی اور آئی ایس ایف کے امیدوار ہیں ۔کورونا وائرس کے تمام اصول و ضوابط کی روشنی میں پولنگ ہوں گے ۔مغربی مدنی پور کی 9سیٹ، بانکوڑا کی 8جنوبی 24پرگنہ کی 4اور مشرقی مدنی پور کی 9سیٹ شامل ہیں جہاں پولنگ ہورہی ہے ۔مشرقی مدنی پور میں ہی نندی گرام کی وہ سیٹ شامل ہے جہاں ممتا بنرجی اور شوبھندو ادھیکاری کا مقابلہ ہورہا ہے ۔



نندی گرام پہلی مرتبہ 2007میں اس وقت سرخیوں میں آیا تھا کہ جب بائیں محاذ کی حکومت کے ذریعہ کیمیکل فیکٹری کے کئے حصول اراضی کے خلاف احتجاج کررہے کسانو ں پر فائرنگ ہوئی تھی۔اس کے خلا ف ممتا بنرجی کی قیادت میں تحریک چلائی گئی۔اس کی وجہ سے کیمیکل فیکٹری نہیں لگ سکی۔2016میں نندی گرام کی سیٹ سے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر شوبھندو ادھیکاری نے انتخاب میں حصہ لیا تھا۔مگر اب وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں اور اس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑرہے ہیں ۔ممتا بنرجی نے اپنی روایتی سیٹ بھوانی پور سے انتخاب لڑنے کے بجائے نندی گرام سے انتخاب لڑنے کا اعلان کرکے بی جے پی اور شوبھندو ادھیکاری کے سامنے چیلنج پیش کردیا ہے ۔امیت شاہ سمیت بی جے پی کے سینئر لیڈران یہاں سے مہم چکاچکے ہیں ۔ممتا بنرجی نندی گرام سے انتخاب جیت کر تیسری مرتبہ وزیرا علیٰ بننے کی تیاری کررہی ہیں ۔

کانگریس-بائیں محاذ اور آئی ایس ایف اتحاد کی سی پی آئی ایم کی امیدوار مناکشی مکھرجی جو نوجوان لیڈر ہیں اپنی کھوئی ہوئی زمین حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔دوسرے مرحلے کی مہم کے دوران آخیر میں شوبھندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی کو بیگم قرار دےکر پورے انتخابی مہم کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہاکہ ممتا جیت گئیں تو نندی گرام منی پاکستان بن جائے گا۔جب کہ ممتا بنرجی نے خود کو نندی گرام سے جوڑنے اور بنگالی قوم پرستی اور پسماندہ برادری کو اوبی سی گٹیگری میں شامل کرنے جیسے ایشوز بھی اٹھائے گئے۔2016 کے اسمبلی انتخابات میں ٹی ایم سی نے 23 ، لیفٹ فرنٹ اور کانگریس اور بی جے پی نے ایک ایک سیٹ حاصل کی تھی۔تاہم 2019کے انتخاب میں بی جے پی نے قبائلی علاقوں میں اکثریت حاصل کی تھی۔جنگل محل کی پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔تاہم جنوبی 24پرگنہ میں ترنمول کانگریس نے اپنی برتریت برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔


دوسرے مرحلے میں ایک اہم سیٹ سبانگ ہے ، جہاں ترنمول کانگریس نے راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ مانس بھوئیاں کو میدان میں اتارا ہے۔ جب کہ ان کے خلاف ترنمو ل کانگریس کو چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونےوالے امولیا متی میدان میں ہے۔بھوئیاں سابق ریاستی کانگریس صدر ہیں ، نے 1982 سے لے کر 016 تک اس نشست پر کانگریس کے نامزد امیدوار کی حیثیت جیت حاصل کی تھی سے ستمبر 2016 میں وہ ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے اور انہیں راجیہ سبھا کےلئے نامزد کیا گیا۔

ٹی ایم سی نے بنکورا سیٹ سے بنگالی چاندی کی اسکرین میں مقبول چہرہ اداکار سیانتیکا بینرجی کو بی جے پی کے نیلادری سکھر دانا کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔ سنجوکت مورچہ نے کانگریس کے امیدوار رادھرانی بنرجی کو میدان میں اتارا ہے۔دیبرا حلقے سے جہاں بی جے پی نے سابق آئی پی ایس آفیسر بھارتی گھوش کو میدان میں اتارا ہے وہیں ترنمول کانگریس نے بھی سابق آئی پی ایس آفیسر ہمایوں کبیر کو ٹکٹ دیا ہے ۔دونوں نے قبل از وقت ریٹائرڈ منٹ لے کر انتخاب میں حصہ لیا ہے ۔دوسرے مرحلے کی مہم کے دوران جہاں ممتا بنرجی نے وئیل چیئر کے ذریعہ ہی ا نتخابی مہم میں حصہ لیا وہیں ترنمول کانگریس کے نوجوان لیڈر ابھیشیک بنرجی نے بھی مورچہ سنبھالا۔جب کہ بی جے پی نے وزیرا عظم مودی، امیت شاہ ، جے پی نڈا اور یوگی جیسے لیڈران نے مہم میں حصہ لیا۔ممتا بنرجی نے انتخابی مہم کو بنگال بنام باہری بنانے کی کوشش کی۔

یو این آئی ان پٹ کے ساتھ نیوز18 اردو کی رپورٹ
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Apr 01, 2021 09:28 AM IST