ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بنگال اسمبلی انتخابات 2021: سوربھ گانگولی بی جے پی کے لئے نہیں کریں گے کپتانی: رپورٹ

West Bengal Assembly Election 2021: رپورٹ کی مانیں تو سوربھ گانگولی فی الحال الیکشن لڑنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ دادا نے بی جے پی قیادت کو بتا دیا ہےکہ وہ نہ تو سیاست میں اترنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی کے لئے انتخابی تشہیر کریں گے۔

  • Share this:
بنگال اسمبلی انتخابات 2021: سوربھ گانگولی بی جے پی کے لئے نہیں کریں گے کپتانی: رپورٹ
بنگال اسمبلی انتخابات 2021: سوربھ گانگولی بی جے پی کے لئے نہیں کریں گے کپتانی: رپورٹ

کولکاتا: مغربی بنگال میں 2021 میں اسمبلی انتخابات (West Bengal Assembly Election 2021) ہونے ہیں۔ اس بار کے الیکشن میں برسر اقتدار جماعت ترنمول کانگریس (TMC) کو بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) سے سخت ٹکر مل سکتی ہے۔ طویل وقت سے اس بات کی چرچا ہے کہ مغربی بنگال میں بی جے پی سابق کرکٹر اور موجودہ بی سی سی آئی سوربھ گانگولی (Sourav Ganguly) کو اپنا وزیر اعلیٰ امیدوار بنا سکتی ہے۔ حالانکہ، رپورٹ کی مانیں تو سوربھ گانگولی فی الحال الیکشن لڑنے کی موڈ میں نہیں ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دادا نے بی جے پی قیادت کو بتا دیا ہے کہ وہ نہ تو سیاست میں اترنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی کے لئے انتخابی تشہیر کریں گے۔ حالانکہ، خود سوربھ گانگولی کی طرف سے ابھی کوئی بیان نہیں آیا ہے۔


انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف’ کے آن لائن ایڈیشن نے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوربھ گانگولی نے گزشتہ ماہ بی جے پی کے سامنے یہ واضح کردیا تھا کہ وہ ایکٹیو پالیکٹس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ہیں۔ وہ بی سی سی آئی چیف کے طور پر اپنے رول سے ہی خوش ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سوربھ گانگولی کی طرف سے انکار کئے جانے کے بعد پارٹی نے ان پر من بدلنے کے لئے کوئی دباو نہیں ڈالا ہے۔


رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دادا نے بی جے پی قیادت کو بتا دیا ہے کہ وہ نہ تو سیاست میں اترنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی کے لئے انتخابی تشہیر کریں گے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دادا نے بی جے پی قیادت کو بتا دیا ہے کہ وہ نہ تو سیاست میں اترنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی کے لئے انتخابی تشہیر کریں گے۔


اخبار نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے لکھا، ’بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ چاہتی تھی کہ سوربھ گانگولی ایک اہم کردار نبھائیں، لیکن وہ کئی دوسرے کردار میں مصروف رہے ہیں... آج صورتحال مختلف ہے، کیونکہ بنگال میں ہم بڑی سیاسی طاقت بن چکے ہیں’۔ حالانکہ، ذرائع نے یہ بھی کہا کہ سوربھ گانگولی کی طرف سے کوئی بھی کردار پارٹی کی مدد کرے گی’۔

کہا جاتا ہے کہ سوربھ گانگولی جب سے بی سی سی آئی صدر بنے ہیں تب ان کے امت شاہ سے بھی کافی اچھے تعلقات ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ سوربھ گانگولی جب سے بی سی سی آئی صدر بنے ہیں تب ان کے امت شاہ سے بھی کافی اچھے تعلقات ہیں۔


واضح رہے کہ 2019 لوک سبھا انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کو جھٹکا دینے والی بی جے پی اس بار اسمبلی انتخابات میں اکثریت کے لئے زور لگا رہی ہے۔ پارٹیکو اس کے لئے کسی ایسے چہرے کی تلاش ہے جو ممتا بنرجی کو ٹکر دے سکے۔ اس لئے بی جے پی نے سوربھ گانگولی پر داوں لگانے کا پلان بنایا تھا۔ لوک سبھا انتخابات کے وقت بھی سوربھ گانگولی کے الیکشن لڑنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں، لیکن تب گانگولی نے خود بیان دے کر ایسی قیاس آرائیوں کو ختم کردیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق، سوربھ گانگولی اور ممتا بنرجی کے درمیان اچھے سیاسی تعلقات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، سوربھ گانگولی اور ممتا بنرجی کے درمیان اچھے سیاسی تعلقات ہیں۔


رپورٹس کے مطابق، سوربھ گانگولی اور ممتا بنرجی کے درمیان اچھے سیاسی تعلقات ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ گانگولی کو کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال کا صدر بنانے کے پیچھے ممتا بنرجی کا ہی تعاون رہا تھا۔ یہی نہیں، گانگولی جب سے بی سی سی آئی صدر بنے ہیں تب ان کے امت شاہ سے بھی کافی اچھے تعلقات ہیں۔ اکتوبر 2019 میں سوربھ گانگولی کو بی سی سی آئی کا صدر بنانے میں وزیر داخلہ امت شاہ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ تبھی سے سیاسی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ 2021 میں ہونے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں سوربھ گانگولی بی جے پی کی کمان سنبھال سکتے ہیں۔

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 03, 2020 01:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading