ہندو ووٹوں پر نظر، ممتا بنرجی نے پہلی بار پارٹی کارکنان کو ’ اقلیتوں کی انتہا پسندی‘ کو لے کر کیا آگاہ

ممتا بنرجی نے ٹی ایم سی کارکنان کے ساتھ میٹنگ میں پہلی بار’ اقلیتوں کی انتہا پسندی‘ کا ذکر کیا اور لوگوں کو اس سے آگاہ رہنے کی ہدایت دی۔

Nov 19, 2019 01:03 PM IST | Updated on: Nov 19, 2019 01:16 PM IST
ہندو ووٹوں پر نظر، ممتا بنرجی نے پہلی بار پارٹی کارکنان کو ’ اقلیتوں کی انتہا پسندی‘ کو لے کر کیا آگاہ

ممتا بنرجی: فائل فوٹو

کولکاتہ۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی کے سیاسی رنگ اب بدلے سے لگ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی سے مقابلے کے لئے انہوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ اسی کے تحت انہوں نے ٹی ایم سی کارکنان کے ساتھ میٹنگ میں پہلی بار’ اقلیتوں کی انتہا پسندی‘ کا ذکر کیا اور لوگوں کو اس سے آگاہ رہنے کی ہدایت دی۔

اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا نام لئے بغیر انہوں نے اس پر نشانہ سادھا ہے۔ ممتا بنرجی نے کوچ بہار میں پارٹی کارکنان کے ساتھ ایک میٹنگ میں کہا ’’ میں دیکھ رہی ہوں کہ اقلیتوں کے درمیان کئی انتہا پسند موجود ہیں۔ ان کا ٹھکانہ حیدرآباد میں ہے۔ آپ لوگ ان پر دھیان مت دیجئے‘۔

Loading...

خاص بات یہ ہے کہ ممتا نے میٹنگ کے بعد کوچ بہار میں مدن موہن مندر جا کر پوجا ارچنا کی۔ اس کے بعد وہ راجباڑی گراؤنڈ میں منعقد راس میلہ میں بھی شامل ہوئیں۔ بتا دیں کہ ایک ہفتہ پہلے اس مندر میں کوچ بہار سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نتیش پرمانک بھی پوجا کرنے پہنچے تھے۔

ممتا کے بدلے بول

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کو لے کر ان کا بیان اور پھر ان کا مندر جانا یہ دکھاتا ہے کہ وہ اب ہندو ووٹروں کو اپنے پالے میں لانا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ کوچ بہار میں ان کا نشانہ بنگالی اور راج بنسی ووٹروں پر بھی ہے۔

 

Loading...