ہوم » نیوز » وطن نامہ

مغربی بنگال:ریاستی حکومت اورگورنرآمنے سامنے، گورنرکی میٹنگ ایک پھراس طرح ہوئی ناکام

مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکر کی جانب سے طلب کردہ شمالی 24پرگنہ ضلع کی انتظامیہ میٹنگ میں عوامی نمائندگان ممبران اسمبلی، ممبران پارلیمنٹ، اراکین ضلع پریشد اور ضلع کے سینئر افسران شرکت نہیں کی

  • Share this:
مغربی بنگال:ریاستی حکومت اورگورنرآمنے سامنے، گورنرکی میٹنگ ایک پھراس طرح ہوئی ناکام
مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکر۔(تصویر:نیوز18بنگلہ)۔

گورنراورحکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے درمیان ٹکراؤ کے درمیان مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکر کی جانب سے طلب کردہ شمالی 24پرگنہ ضلع کی انتظامیہ میٹنگ میں عوامی نمائندگان ممبران اسمبلی، ممبران پارلیمنٹ، اراکین ضلع پریشد اور ضلع کے سینئر افسران شرکت نہیں کی۔ گورنر نے آج شمالی 24پرگنہ کے دم کھالی میں میٹنگ طلب کی تھی اور گورنروقت پر پہنچ گئے مگران کے علاوہ کوئی بھی نہیں آیا۔اسی لیے میٹنگ کو ملتوی کرنا پڑا۔

 

ضلع انتظامیہ پرناراضگی ظاہر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کو 17اکتوبر خط روانہ کرتے ہوئے میٹنگ کے متعلق مطلع کردیا گیا تھا تاہم 21اکتوبر کو ضلع انتظامیہ نے اپنے ایک خط میں کہا تھا کہ ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی بھی انتظامی میٹنگ طلب نہیں کی جاسکتی ہے۔گورنر نے کہا کہ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوں کہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی 20اکتوبرسے 24اکتوبرتک شمالی بنگال کے دورے پر ہیں اس لیے تمام سینئر افسران شمالی بنگال میں ہیں۔اس لیے افسران گورنر کی میٹنگ میں نہیں آسکتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ میں ریاست کا آئینی سربراہ ہوں، اس کے باوجود میری میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے کیا ریاستی حکومت سے اجازت ضروری ہے۔یہ مکمل طور پرغیرآئینی ہیں۔   آج دوپہرسنجے کھالی میں بھی گورنر افسران کے ساتھ میٹنگ کرنے والے تھے مگر ضلع انتظامیہ کے افسران میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔بی جے پی نے گورنر کی میٹنگ میں افسران کی عدم شرکت میں ریاستی حکومت کے رول کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا بنگال میں ہندوستان کے آئین کی ضرورت نہیں ہے۔یہاں قانون نام کی کوئی چیزنہیں ہے۔گزشتہ دنوں گورنر نے انٹر ویو میں کہا تھا کہ میں یہاں لڑائی لڑنے کیلئے نہیں آیا ہوں، مگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں بے اختیار ہوں تو وہ غلط ہیں۔ گورنر کے بیان پر تبصرہ کرنے سے ریاستی وزیر پارتھو چٹرجی کا انکار گورنر جگدیپ دھنکرکی طلب کردہ میٹنگ میں افسران کی عدم شرکت پر ریاستی حکومت کے تئیں گورنر کے بیان پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے ریاستی وزیر تعلیم اورحکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے سیکریٹری جنرل پارتھو چٹرجی نے کہا کہ گورنر کے ہرایک بیان کا جواب دینے کے وہ مجازنہیں ہیں۔خیال رہے کہ گورنراو رریاستی حکومت کے درمیان گزشتہ مہینے جادوپوریونیورسٹی میں مرکزی وزیر مملکت بابل سپریہ کو لے کر جاری ہنگامہ آرائی میں گورنر کی مداخلت کے بعد سے ہی ٹکراؤ کی نوبت ہے۔ ایک طرف جہاں ریاستی حکومت گورنر پر ریاست کے معاملات میں مداخلت کا الزام عاید کررہی ہے وہیں گورنر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری کو ادا کررہی ہیں۔آج گورنر نے شمالی 24پرگنہ کے افسران اورعوامی نمائندگان کی میٹنگ طلب کی تھی مگر ریاستی حکومت کی ہدایت کی وجہ سے گورنر کی میٹنگ میں کوئی بھی افسرشریک نہیں ہوا۔اس کی وجہ سے گورنرکی میٹنگ ناکام ہوگئی۔ گورنر کے بیان پر جب ریاستی وزیرتعلیم پارتھو چٹرجی سے سوال کیا گیا توانہوں نے کہا کہ کیا میں گورنر کے ہر یک بیان کا جواب دینے کیلئے ہوں؟‘گورنر آئینی سربراہ ہیں اس لیے میں ان کے بیان کا کوئی جواب نہیں دوں گا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ایک طرف جہاں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی انتظامیہ میٹنگ کرکے ضلع پر اپنی پکڑ مضبوط بنانے کی کوشش کررہی ہیں وہیں بی جے پی گورنر کے ذریعہ ضلع تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہیں۔اس کی وجہ سے ٹکراؤ کی نوبت پہنچ گئی ہے۔
First published: Oct 22, 2019 08:31 PM IST