உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پھانسی پر لٹکنے سے پہلے اجمل قصاب کے آخری الفاظ، 'آپ جیت گئے، میں ہار گیا،۔

    دہشت گرد اجمل قصاب: فائل فوٹو

    دہشت گرد اجمل قصاب: فائل فوٹو

    مہالے نے اپنی کتاب ''26 / 11 قصاب اور میں' 'میں بتایا کہ اس حملے کی تحقیقات میں تقریبا 98 بہترین افسران کو شامل کیا گیا تھا اور ان تمام افسران کی کمان میرے ہاتھوں میں دی گئی تھی۔

    • Share this:
      ممبئی پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ کو آج 10 سال پورے ہو گئے ہیں۔ اس حملے کی رچی گئی سازش سے لے کر پھانسی کے پھندے تک گرفت میں آیا واحد زندہ دہشت گرد اجمل قصاب کے پھانسی پر چڑھنے تک کی کہانی 26/11 حملے کے اہم تفتیشی افسر رمیش مہالے نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے۔

      مہالے نے اپنی کتاب ''26 / 11 قصاب اور میں' 'میں بتایا کہ اس حملے کی تحقیقات میں تقریبا 98 بہترین افسران کو شامل کیا گیا تھا اور ان تمام افسران کی کمان میرے ہاتھوں میں دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جب دہشت گرد قصاب کو پھانسی کے لئے لے جایا جا رہا تھا تب قصاب نے مجھ سے کہا 'مہالے سر آپ جیت گئے اور میں ہار گیا۔'

      مہالے کی اس کتاب کے رسم اجرا کے دوران ایک اور نئی معلومات کھل کر سامنے آئی، جو شاید اب تک کی تحقیقات میں کہیں پر بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ 26 نومبر 2008 کو قصاب کے ساتھ جن دیگر دہشت گردوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا، وہ کون ہیں، کہاں سے آئے تھے اس بات کی جانکاری صرف آئی بی میں کام کر رہے افسر دتا پڈسلگیکر کے پاس تھی۔ انہوں نے ہی فون کر ممبئی پولیس کو یہ جانکاری دی تھی کہ حملہ کرنے والے دہشت گرد پاکستان کے ہیں۔
      First published: