ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی بم دھماکوں کے تین مجرمین کو عمرقید کی سزا، مزمل کوپھانسی کی سزا نہ ملنے پر جمعیۃ کا اظہار اطمینان

ممبئی : 03۔2002 ممبئی بم دھماکہ معاملے میں خصوصی پوٹا عدالت نے تین مجرمین مزمل انصاری، فرحان کھوت، ڈاکٹر عبدالواحد کو سزائے عمر قید جبکہ دیگرچار مجرمین ثاقب ناچن، عاطف ملا، حسیب ملا، اور غلام اکبر کھوٹال کو دس برس قید بامشقت کی سزا تجویز کی ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 06, 2016 09:47 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ممبئی بم دھماکوں کے تین مجرمین کو عمرقید کی سزا، مزمل کوپھانسی کی سزا نہ ملنے پر جمعیۃ کا اظہار اطمینان
ممبئی : 03۔2002 ممبئی بم دھماکہ معاملے میں خصوصی پوٹا عدالت نے تین مجرمین مزمل انصاری، فرحان کھوت، ڈاکٹر عبدالواحد کو سزائے عمر قید جبکہ دیگرچار مجرمین ثاقب ناچن، عاطف ملا، حسیب ملا، اور غلام اکبر کھوٹال کو دس برس قید بامشقت کی سزا تجویز کی ہے ۔

ممبئی : 03۔2002 ممبئی بم دھماکہ معاملے میں خصوصی پوٹا عدالت نے تین مجرمین مزمل انصاری، فرحان کھوت، ڈاکٹر عبدالواحد کو سزائے عمر قید جبکہ دیگرچار مجرمین ثاقب ناچن، عاطف ملا، حسیب ملا، اور غلام اکبر کھوٹال کو دس برس قید بامشقت کی سزا تجویز کی ہے ۔ خصوصی جج پی آر دیشمکھ نے اسی طرح اس معاملے میں قصور وار ٹھہرائے گئے دیگر تین مجرمین محمد کامل ،نور محمد اور ڈاکٹر انورعلی کو دو سال قید بامشقت کی سزائیں تجویز کی ہے ۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں جب عدالت نے اس معاملے کے 13ملزمین میں سے دس کو قصور وار ٹھہرایا تھا اور تین کو باعزت بری کیا تھا اس وقت عدالت نے کلیدی مجرم مزمل انصاری کو پھانسی کی سزا دیئے جانے کا اشارہ دیا تھا ۔خود استغاثہ نے بھی گذشتہ کل سزاؤں پر منعقدہ بحث کے دوران مزمل انصاری کے لیئے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

پھانسی کی سزا کا اشارہ پانے اور استغاثہ کی جانب سے بھی سزائے موت طلب کئے جانے کے خلاف مزمل انصاری نے عدالت سے رحم کی درخواست کی تھی جسے آج پوٹاعدالت نے منظور کیا اور اسے سزائے عمر قید کی سزا تجویز کی ۔

دریں اثنا دہشت گردی کے الزامات کے تحت مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے پوٹا عدالت کے فیصلہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کے شکر گذار ہیں کہ عدالت نے مجرم مزمل انصاری کو پھانسی کی سزا نہیں دی بلکہ اس نے ہماری اس عرضداشت کو منظور کرلیا ، جس میں رحم کی درخواست کی گئی تھی اور مجرم کی ٖغربت اور اہل خانہ کی حالت سے عدالت کو واقف کراکر اسے کم سے کم سزا دینے کی درخواست کی گئی تھی ۔

واضح رہے کہ جمعیۃ کے وکلاء نے پوٹا عدالت میں سپریم کورٹ کے پچاس فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی تھی کہ مجرم کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے ،اس کے گھریلو حالات خستہ ہیں اور وہ غیر شادی شدہ تعلیم یافتہ ہونے کے علاوہ اپنے خاندان کی کفالت کرنے کا واحد ذریعہ ہے لہذا اسے کم سے کم سزا دی جائے ۔ جمعیۃکی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے جو دلائل پیش کیئے تھے عدالت نے اسے منظور کیا تھا اور استغاثہ کی عرضداشت کو بھی مسترد کرتے ہوئے مجرم کو سزائے عمر قید ہی تجویز کی ۔

First published: Apr 06, 2016 09:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading