உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وردھا میں ایک گاؤں کے مکان میں 98 سانپ ملے، گاؤں کے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول 

    سانپ پکڑنے والوں کے آنے کے بعد لوگوں نے راحت کا سانس لیا۔ اور پھر آہستہ آہستہ ہر سانپ کو پکڑ کر بوتلوں میں بھر دیا گیا اور اس کے بعد سارے سانپوں کو قریب کے ایک ندی میں چھوڑ دیا گیا۔

    سانپ پکڑنے والوں کے آنے کے بعد لوگوں نے راحت کا سانس لیا۔ اور پھر آہستہ آہستہ ہر سانپ کو پکڑ کر بوتلوں میں بھر دیا گیا اور اس کے بعد سارے سانپوں کو قریب کے ایک ندی میں چھوڑ دیا گیا۔

    سانپ پکڑنے والوں کے آنے کے بعد لوگوں نے راحت کا سانس لیا۔ اور پھر آہستہ آہستہ ہر سانپ کو پکڑ کر بوتلوں میں بھر دیا گیا اور اس کے بعد سارے سانپوں کو قریب کے ایک ندی میں چھوڑ دیا گیا۔

    • Share this:
    بیک وقت 100 کے قریب سانپ نظر آجائیں تو آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ ایک انسان کو اگر سانپ نظر آ جاتا ہے تو اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں اور وہ سمجھ نہیں پاتا کہ اس کو کیا کرنا چا ہئے لیکن کیا آپ نے یہ سوچا ہے کہ اگر کوئی 98 سانپوں کو ساتھ دیکھے تو اس کا کیا حال ہوگا۔ آپ کو یہ سن کر یقین نہیں ہورہا ہوگا کہ ہے یہ بالکل سچ ہے۔ یہ مہاراشٹر کے وردھاضلع کا واقعہ ہے  جہاں گاؤں کے مکان کے غسل خانہ توڑ کر دوبارہ بنایا جارہا تھا۔ مزدور سکون کے ساتھ اپنے کام میں مصروف تھے۔ تب ایک مزدور نے قریب ہی پانی کا ڈرم ہٹایا تو اس نے ایک  دو نہیں بلکہ 25 سے 30 سانپ دیکھے بہت سارے سانپوں کو ایک ساتھ دیکھ کر مزدوروں میں ہلچل مچ گئی۔

    اس کے بعد جو ہوا وہ اور بھی خوفناک تھا۔ جب مزدوروں نے اپنے ساتھ رکھے ہوئے دوسرے ڈرموں کو ہٹایا تو سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس ڈرم کے نیچے 50 سے 60 سانپ تھے۔ بہت سارے سانپوں کو دیکھ کر آس پاس کے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں۔ سب خوفزدہ ہوگئے اور سب گھر سے بھاگنے کی کوشش کر نے لگے۔ فوری طور پرگاؤں کے لوگوں نے مقامی سانپ پکڑنے والوں کو اطلاع دی۔



    سانپ پکڑنے والوں کے آنے کے بعد لوگوں نے راحت کا سانس لیا۔ اور پھر آہستہ آہستہ ہر سانپ کو پکڑ کر بوتلوں میں بھر دیا گیا اور اس کے بعد سارے سانپوں کو قریب کے ایک ندی میں چھوڑ دیا گیا۔ ان سانپوں کو دیکھ کر سانپ پکڑنے والوں نے بتایا کہ یہ پانی کے سانپ ہیں اور ان میں کوئی زہر نہیں ہے۔ تاہم اس واقعے کے بعد گاؤں والوں کے ذہنوں میں اب بھی خوف کا ماحول ہے۔ لوگ آج بھی اس واقعے کو یاد کر کے سہم جاتے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: