ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

بنگلور کی مسجدِ عسکری میں چہلم کی مجلس، جگہ جگہ مجالس و ماتم کا ہوا اہتمام

ہر سال کی طرح اس بار بھی شیعہ مسلمانوں نے چہلم منایا۔ اس چہلم پاک کو عربی زبان میں اربعین کہتے ہیں۔ اس موقع پر بنگلورو کی مسجد عسکری میں مجلس و ماتم کا انعقاد عمل میں آیا۔ کورونا وبا کے پیش نظر حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے گائڈ لائنس کا خیال رکھتے ہوئے صرف مجالس منعقد ہوئیں۔ جلوس برآمد نہیں ہوا۔

  • Share this:
بنگلور کی مسجدِ عسکری میں چہلم کی مجلس، جگہ جگہ مجالس و ماتم کا ہوا اہتمام
بنگلور کی مسجدِ عسکری میں چہلم کی مجلس

بنگلورو: ہر سال کی طرح اس بار بھی شیعہ مسلمانوں نے چہلم منایا۔ اس چہلم پاک کو عربی زبان میں اربعین کہتے ہیں۔ اس موقع پر بنگلورو کی مسجد عسکری میں مجلس و ماتم کا انعقاد عمل میں آیا۔ کورونا وبا کے پیش نظر حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے گائڈ لائنس کا خیال رکھتے ہوئے صرف مجالس منعقد ہوئیں۔ جلوس برآمد نہیں ہوا۔ انجمن امامیہ کے صدر میر علی رضا نجفی نے کہا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے جلوس برآمد کرنے کی اجازت نہیں ملی لیکن یوم عاشورہ کی طرح چہلم کے موقع پر بھی مسجدوں، عاشور خانوں اور عزا خانوں میں مجالس منعقد کرنے کی حکومت کی جانب سے اجازت دی گئی تھی۔ لہذا سماجی فاصلہ اور دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ غم حضرت امام حسین منایا گیا ہے۔ بنگلورو میں شیعہ مسلمانوں کی مرکزی مسجد، مسجد عسکری کے امام جمعہ و جماعت مولانا سید محمد ابراہیم نے کہا کہ روز اربعین کی کافی اہمیت ہے۔ آج ہی کہ دن یعنی 20 سفر کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے اہل خانہ (جنہیں کربلا کی جنگ کے بعد یزید نے قید کیا تھا) ملک شام سے عراق کے شہر کربلا پہونچ کر حضرت امام حسین کی مزار شریف پر فاتحہ خوانی کی، شہدائے کربلا کی قبروں کی زیارت کی۔ اس قافلے میں حضرت امام حسین کی بہنیں حضرت بی بی زینب، حضرت بی بی ام کلثم، امام ذین العابدین اور اس خانوادہ کے بقیہ افراد شامل تھے۔


پہلی مرتبہ انہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر کا دیدار کیا اور فاتحہ خوانی کی۔ اس لحاظ سے آج کے دن کی کافی اہمیت ہے۔ مولانا سید محمد ابراہیم نے کہا کہ 20 سفر کو ہر سال چہلم کی مجالس اور جلوس برآمد کئے جاتے ہیں۔ اس موقع پر حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت ، پیغام، واقعہ کربلا پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ یوم عاشورہ کے ساتھ ساتھ اربعین کا دن بھی حضرت امام حسین کے چاہنے والوں کیلئے ایک بڑے الم اور غم کا موقع ہے۔ مسجد عسکری میں منعقدہ مجلس کے موقع پر خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ خاص طور پر کورونا وبا کے خاتمے کیلئے، اس مرض سے انسانیت کی حفاظت کیلئے دعائیں مانگی گئیں۔دوسری جانب بنگلورو کے قریب واقع علی پور میں انجمن جعفریہ کے تحت روز اربعین کی مجالس اور ماتم کا انعقاد عمل میں آیا۔


معروف شاعر اہل بیت ناطق علی پوری نے کہا کہ علی پور میں دن بھر مجالس منعقد ہوئیں۔ مرکزی مجلس آستانہ حسینی میں ہوئی، اس کے علاوہ امام باڑوں میں سماجی فاصلہ، ماسک اور دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ حضرت امام حسین کی یاد میں مجلسیں برپا کی گئیں۔ ان مجالس سے مولانا محمد علی، مولانا سلمان عابدی، مولانا اظہر حسین، مولانا میثم، مولانا مقداد اور دیگر علماء نے خطاب کیا۔




اربعین کے موقع پر ہر سال دنیا کے کونے کونے سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے چاہنے والے لاکھوں کی تعداد میں عراق کے شہر کربلا پہونچتے ہیں۔ لیکن اس بار کورونا کی وبا کے باعث عراقی حکومت نے بیرونی ممالک سے آنے والے زائرین کی تعداد پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ بنگلورو میں یوم حسین کے منتظم، عراقی امور کے ماہر آغا سلطان نے کہا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے عراقی حکومت نے ہر ملک کیلئے زائرین کی تعداد مختص کی تھی۔ ہندوستان کیلئے آخری مرحلے میں صرف ڈھائی ہزار زائرین کو عراق آنے کی اجازت دی گئی۔



آغا سلطان نے کہا اس بار ہندوستان سے 500 کے قریب زائرین تین چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعہ ممبئی سے نجف کیلئے روانہ ہوئے ہیں۔ آغا سلطان نے کہا کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ہندوستانی عقیدت مند اربعین کے موقع پر عراق میں موجود رہا کرتے تھے۔ ہندوستان کے پرچم کے ساتھ ایک بڑا جلوس بھی کربلا میں برآمد ہوا کرتا تھا۔ دنیا کا سب سے بڑا پرامن روحانی اجتماع عراق میں اربعین کے موقع پر دیکھنے کو ملتا تھا۔ لیکن اس بار کورونا کی بیماری کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند عراق جاکر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا چہلم منانے سے محروم ہوئے ہیں۔ مسجد عسکری کے امام جمعہ مولانا سید محمد ابراہیم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پوری دنیا سے کورونا کی وبا کے خاتمے کیلئے کثرت کے ساتھ دعائیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ 1400 سال سے جاری اربعین کی روایت اسلام کو فروغ دینے اور حق کی آواز کو بلند و بالا کرنے کا ذریعہ ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 08, 2020 10:38 PM IST