உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہیومن ویلفیئر سوسائٹی نامی تنظیم 6 سال سے  بچوں کو ے دے رہی ہے مفت تعلیم

    تعلیم کے ساتھ ساتھ ضرورتمند غریب خواتین کو سلائی کا کام بھی سکھارہی ہے تاکہ اس وباء کے وقت ہر ایک دو وقت کی روزی روٹی کما اور کھا سکے۔

    تعلیم کے ساتھ ساتھ ضرورتمند غریب خواتین کو سلائی کا کام بھی سکھارہی ہے تاکہ اس وباء کے وقت ہر ایک دو وقت کی روزی روٹی کما اور کھا سکے۔

    تعلیم کے ساتھ ساتھ ضرورتمند غریب خواتین کو سلائی کا کام بھی سکھارہی ہے تاکہ اس وباء کے وقت ہر ایک دو وقت کی روزی روٹی کما اور کھا سکے۔

    • Share this:
    کورونا کے اس تباہ کن دور میں ممبئی کے کرلا قریش نگر ہیومن ویلفیئر سوسائٹی نام کی ایک سماجی تنظیم غریب بچوں کو انگریزی بولنے کے مفت کورس ، کمپیوٹر ٹریننگ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ضرورتمند غریب خواتین کو سلائی کا کام بھی سکھارہی ہے تاکہ اس وباء کے وقت ہر ایک دو وقت کی روزی روٹی کما اور کھا سکے۔ ایک کہاوت مشہور ہے۔ اللہ کے گھر دیر ہے اندھیرے نہیں یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی ہے۔ ممبئی کے کرلا قریش نگر علاقے میں واقع ہیومن ویلفیئر سوسائٹی نامی ایک تنظیم نے سال 2013 سے سماجی کام کرتی آرہی ہے لیکن کورونا دور میں اس ادارہ کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے ، خاص طور پر اسکول کے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے تصاویر میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی یہ تصاویر کسی نجی ٹیوشن یا اسکول کی نہیں ہیں بلکہ اسی ہیومن ویلفیئر سوسائٹی کی ہیں جہاں غریب اور جھو پڑ پٹی کے بچوں کو مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

    اس کے علاوہ علاقے کی بہت ساری غریب خواتین کو سلائی کا کام بھی سکھایا جاتا ہے ، تاکہ وہ اپنا گھر چلاسکیں ۔ اس تنظیم کو قائم کرنے والے کہتے ہیں کہ کورونا کے اس بحران میں تمام گائیڈ لائن پر عمل کرتے ہوئے کام کئے جاتے ہیں۔ چھ سالوں سے تنظیم کی غریب لڑکیوں اور خواتین کو سلائی کا کام سکھانے والی سلمی سید کا کہنا ہےکہ یہاں سلائی کے جو بھی طریقے ہیں وہ سب سکھائےجاتے ہیں اور ادارے میں سلائی کڑھائی کی وجہ سے بہت سے خواتین کو آج روزگار مل گیا ہے۔



    سلائی سکھانے والی خاتون کا کہنا ہے کہ سلائی کی تعلیم دے کر ان کی بہت ساری مشکلات میں کمی آئی ہے۔ اس تنظیم کے ذریعہ دی گئی معلومات کے مطابق 2013 سے ممبئی کے کرلا علاقے میں کام کررہی ہے۔ کورونا کے آنے سے قبل ، ایک وقت میں200 سے زیادہ بچے اور خواتین کو ان کی ضروریات کے مطابق تعلیم سے لے کر سلائی کا کام سکھایا جاتا یے لیکن کرونا آنے کے بعد ،200 طلباء کی تعداد میں مزیداضافہ ہوا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: