ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹر: ابوعاصم اعظمی نےکہا- ادھوٹھاکرے وزیراعلیٰ کےطورپرقبول، کامن منیمم پروگرام کے تحت چلےگی حکومت

سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدرنےکہا کہ جب دیویندرفڑنویس کے پا س حکومت بنانے کے لئےاکثریت نہیں تھی توپھررات کی تاریکی میں اس طرح کی حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

  • Share this:
مہاراشٹر: ابوعاصم اعظمی نےکہا- ادھوٹھاکرے وزیراعلیٰ کےطورپرقبول، کامن منیمم پروگرام کے تحت چلےگی حکومت
سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر حکومت پرکہی یہ بات۔

ممبئی: مہاراشٹرمیں ایک مہینے سے زیادہ دنوں تک  چلنے والے حکومت سازی کا بحران آج اجیت پواراوروزیر اعلی دیویندرفڑنویس کےاستعفیٰ کے بعد اختتام پذیرہوا۔ نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدراوررکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نےکہا کہ ادھوٹھاکرے انہیں وزیراعلیٰ کے طورپرقبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامن منیمم پروگرام کے تحت یہ حکومت چلے گی۔ ہمارے نمائندے محی الدین نے مہااگاڑی حکومت کا حصہ بننے والے لیڈرابوعاصم اعظمی سے بات کی ۔


ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ جب دیویندرفڑنویس کے پا س حکومت بنانے کے لئے اکثریت نہیں تھی توپھررات کی تاریکی میں اس طرح کی حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ انہیں جب پتہ چل گیا کہ فلورٹیسٹ کے دوران جب دنیا کے سامنے ہماری سچائی آئے گی تواس سے پہلےانہوں نے استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق نائب وزیراعلیٰ اجیت پوارکے تعلق سے کہا کہ شرد پوارکے ساتھ تمام اراکین اسمبلی آگئے ہیں، اس لئےان کو بھی واپس آنا چاہئے اورشرد پوارکوانہیں پارٹی میں واپس لے لینا چاہئے۔




واضح رہے کہ مہاراشٹرمیں سیاسی ڈرامہ کے دوران بی جے پی کی حکومت تین دنوں میں ہی گرگئی ہے۔ فلورٹیسٹ سے قبل ہی بی جے پی کی حکومت گرگئی۔ فڑنویس  حکومت ملک میں دوسری سب سےکم دنوں والی حکومت ثابت ہوئی ہے۔ ہفتہ کوحلف لینے والے وزیراعلیٰ اورنائب وزیراعلیٰ دونوں نے اپنےعہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ پہلے خبرتھی کہ اجیت پوارنے اپنےعہدے سےاستعفیٰ دے دیا ہے۔ دوسری باروزیراعلیٰ عہدے کا حلف لینے والے دیویندر فڑنویس نے پریس کانفرنس کے دوران استعفیٰ کا اعلان کیا اورپھرگورنرکواپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ انہوں نےکہا کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے، اس لئے ہم استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اس طرح سے بی جے پی نے صرف تین دنوں کے بعد ہی میدان چھوڑدیا ہےاوراب شیوسینا، این سی پی اورکانگریس کی حکومت سازی کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔
First published: Nov 26, 2019 10:15 PM IST