உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    صبح کی سیر پر جانے والی خواتین کے ساتھ شخص کی اس گھنونی حرکت کا پردہ فاش، گرفتار

    پولیس نے ملزم سے 5 لاکھ 24 ہزار 950 روپے مالیت کے زیورات اور ایک موٹرسائیکل برآمد کی ہے۔

    پولیس نے ملزم سے 5 لاکھ 24 ہزار 950 روپے مالیت کے زیورات اور ایک موٹرسائیکل برآمد کی ہے۔

    پولیس نے ملزم سے 5 لاکھ 24 ہزار 950 روپے مالیت کے زیورات اور ایک موٹرسائیکل برآمد کی ہے۔ پولیس اس معاملے میں مزید تفتیش میں مصروف ہے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس پورے معاملے میں اور کتنے لوگ ملوث ہیں اور کیا ملزم نے اس طرح کے اور بھی جرائم کئے ہیں۔

    • Share this:
    اگر آپ مارننگ واک پر جارہے ہیں تو ہوشیار ہو جائیں، ہوسکتا ہے کہ کوئی آپ کا پیچھا کرکے آپ کو لوٹنے کا منصوبہ بنا رہا ہو۔ ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ملزم مارننگ واک پر جانے والی خواتین کو نشانہ بناتا تھا اور زیور چھین کر فرار ہو جاتا تھا۔ چین چھین کر بھاگنے والے چور کو پولیس نے گرفتا کر لیا ہے۔ یہ شاطر چور واک کرنے والی خواتین کو اپنا نشانہ بناتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف 14 مختلف مقدمات درج ہیں جب ملزم کو پولیس نے پکڑا تو اس کے پاس سے 5 لاکھ روپے مالیت سونے کے زیورات برآمد ہوئے ہیں۔
    ویرار کے علاقے میں دن بہ دن چین اور سونے کا زیور چھیننے کے واقعات بڑھ رہے تھے جس کی وجہ سے پولیس کافی مستعد ہو گئی۔ اس دوران ویرار ایسٹ کے پانچ پابری علاقے میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ آس پاس کے سی سی ٹی وی میں قید ہوگیا۔ جب پولیس نے مجرم کی تلاش شروع کی تو پولیس کو مخبر سے اطلاع ملی کہ ڈکیتی کرنے والا شخص ویرار کے برف پاڑہ میں رہتا ہے۔


    اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے جال بچھایا اور ملزم کو گرفتار کر لیا. تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ یہ ملزم قبائلی علاقوں میں ریکی کرتا تھا جب عورتیں صبح واک پر آتیں تو اس سڑک کی ریکی کرتا تھا جہاں سے وہ فرار ہوجاتا تھا۔



    پولیس نے ملزم سے 5 لاکھ 24 ہزار 950 روپے مالیت کے زیورات اور ایک موٹرسائیکل برآمد کی ہے۔ پولیس اس معاملے میں مزید تفتیش میں مصروف ہے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس پورے معاملے میں اور کتنے لوگ ملوث ہیں اور کیا ملزم نے اس طرح کے اور بھی جرائم کئے ہیں۔ بتادیں کہ اس گروہ کے 3 افراد کو پولیس نے پکڑ لیا ہے اور مزید تفتیش کر رہی ہےکیا اور بھی لوگ اس میں ملوث ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: