உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیوز 18 انڈیا چوپال : میری ہر بات مت مانو ، لیکن سوال و جواب کی گنجائش تو رکھو : اداکار پرکاش راج

    اداکار پرکاش راج ۔ فائل فوٹو

    اداکار پرکاش راج ۔ فائل فوٹو

    اداکارہ پرکاش راج کا کہنا ہے کہ ابھی تک وہ فلموں میں کیریکٹر کی زبان بولتے تھے ، لیکن اب انہوں نے اپنے من کی بات بولنی شروع کردی ہے ۔

    • Share this:
      ممبئی : اداکارہ پرکاش راج کا کہنا ہے کہ ابھی تک وہ فلموں میں کیریکٹر کی زبان بولتے تھے ، لیکن اب انہوں نے اپنے من کی بات بولنی شروع کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کہیں غلط ہوتا ہے ، وہ کھل کر بولتے ہیں ۔ ویسے پرکاش نے کہا کہ وہ بہت سنجیدہ اداکار ہیں ، شاید اسی لئے فلموں میں انہیں ہمیشہ منفی رول دئے جاتے ہیں ، لیکن وہ اداکاری کا حصہ ہیں اور وہ دل سے اسے نبھاتے بھی ہیں۔
      نیوز 18 انڈیا کے چوپال پروگرام کے دوران انہوں نے کئی سارے معاملات پر کھل کر بات چیت کی ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب زندگی جینے کا ایک طریقہ ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ مذہب آپ کو اچھا انسان بنائے ۔ آپ کے پاس اپنا مذہب منتخب کرنے کا حق ہے ۔ جمہوریت میں عوام کی شراکت داری پر پرکاش راج نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام حکومت چلانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ اقتدار میں خواہ کوئی بھی رہے ، ہمیں سوال پوچھنے چاہئیں کیونکہ عوام کی اکثریت ہے ، ہماری اکثریت ہے ، ملک جانکاری سے نہیں بیداری سے چلے گا ۔ سوال پوچھنے سے ڈر بھاگتا ہے ۔
      اس سوال کے جواب میں کہ آپ نے اتنی ساری فلمیں کیں ، لیکن پہلے کبھی آپ نے سیاسی معاملات پر کھل کر بات نہیں کی پھر آپ کو کیوں ضرورت محسوس ہوئی ؟ ، پرکاش راج نے کہا کہ ہر کسی کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب وہ اپنے آس پاس کی چیزوں کے بارے میں سوچنے لگتا ہے اور ان کے بارے میں بولنے لگتا ہے ۔ ممکنہ طور پر گوری ( صحافی گوری لنکیش) کی موت کے بعد میری زندگی میں وہ وقت آیا ، لنکیش ( گوری کے والد ) میرے گرو تھے ، میں ان کے بیٹے کی طرح تھا ، انہوں نے مجھے کئی ویلیوز دئے ، گوری 35 سالوں سے میری دوست تھی ، گوری کے قتل کے بعد میں نے خود سے سوال کیا کہ پرکاش یہ کیا ہورہا ہے ؟ میں نہیں چاہتا کہ دوسری گوری ہو ، اس لئے میں سوال پوچھ رہا ہوں ، مجھے تاخیر ہوگئی ، لیکن تاخیر ہوگئی اس لئے کوئی مجھے سوال پوچھنے سے منع نہیں کرسکتا۔
      سیاست کے بارے میں پرکاش راج نے کہا کہ وہ کسی بھی پارٹی کے نہیں ہیں ، بس وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں پھیلی انارکی ختم ہوجائے ۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک اداکار ہیں ، ایک نمونہ ہیں ، انہیں چھوڑ دیا جائے ۔
      First published: