உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    15سال بعد پاکستان سے ہندوستان لوٹی گیتا کے والدین کی تلاش کیلئے مہم شروع

    15سال بعد پاکستان سے ہندوستان لوٹی گیتا کے والدین کی تلاش کیلئے مہم شروع

    15سال بعد پاکستان سے ہندوستان لوٹی گیتا کے والدین کی تلاش کیلئے مہم شروع

    گونگی اور بہری گیتا نامی لڑکی جو پانچ سال کی عمر میں غلط ٹرین میں سوار ہوکر پاکستان چلی گئی تھی، وزارت داخلہ کی مدد اور کوششوں سے 15 سال بعد وہ ہندوستان لوٹی۔ یہاں بھی اس نے چار سال اندور کے ایک معذور بچوں کے ادارے میں تعلیم و تربیت حاصل کی اور اب اپنے والدین کی تلاش میں ملک کے مختلف شہروں کی خاک چھان رہی ہے۔

    • Share this:
    ناندیڑ۔ گونگی اور بہری گیتا نامی لڑکی جو پانچ سال کی عمر میں غلط ٹرین میں سوار ہوکر پاکستان چلی گئی تھی، وزارت داخلہ کی مدد اور کوششوں سے 15 سال بعد وہ ہندوستان لوٹی۔ یہاں بھی اس نے چار سال اندور کے ایک معذور بچوں کے ادارے میں تعلیم و تربیت حاصل کی اور اب اپنے والدین کی تلاش میں ملک کے مختلف شہروں کی خاک چھان رہی ہے۔ اسی سلسلہ میں گیتا ناندیڑ پہنچی۔ یہاں بھی وہ اپنے والدین کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔

    اس سلسلہ میں ملنے والی تفصیلات کے مطابق گونگی اور بہری گیتا کی کہانی بھی’’ بجرنگی بھائی جان‘‘نامی فلم کی طرح ہی ہے ۔ بچپن میں پانچ سال کی عمر میں گیتا اپنے گھر سے نکل کر ٹرین میں سوار ہوئی۔ ٹرینیں بدلتے بدلتے پاکستان کی ٹرین میں سوار ہو گئی اور پھر پاکستان چلی گئی۔ پاکستان میں اس نے ایدھی فاؤنڈیشن میں پناہ لی ۔وہاں اس نے تقریباً 15 سال گذارے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ اس نے اپنے ہندوستانی ہونے کی اطلاع دی اور ہندوستانی حکومت سے اپنے وطن واپس آنے کی درخواست کی۔

    سابق وزیر خارجہ ششما سوراج نے اس معاملے میں مداخلت کی اور اپنی ذاتی دلچسپی کے ذریعہ اس کو دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کا استعمال کرکے ہندوستان واپس لے آئیں۔ہندوستان پہنچنے کے بعد اس لڑکی کو اندور ایک معذور بچوں کے ادارے میں پنا ہ دی گئی وہاں بھی اس نے چار سال قیام کیا ۔اس کے بعد جب لاک ڈاؤن ہوا تو معذور ادارے میں زیر تعلیم بچے اپنے اپنے والدین کے گھر لوٹ گئے۔گیتا نے بھی اپنے والدین کے پاس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔آنند سروس سوسائٹی کے سکریٹری گیانیند پروہیت نے گیتا کے والدین کی تلاش میں اسے ملک کے مختلف شہروں میں لے جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہاں جانے کے بعد کسی طرح اس کے والدین کا پتہ لگایا جاسکے۔ گیتا کو اس کے والدین تک پہنچانا واقعی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

    آنند سروس سائٹی کے ذمہ داران نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے اور اپنے مقصد کے حصول کیلئے نکل پڑے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ انہیں کامیابی حاصل کرنے میں کتنا عرصہ لگتا ہے ۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آنند سروس سوسائٹی کے سکریٹری گیانند پروہیت نے گیتا سے اشاروں کی زبان میں بات کی اور اس کے حالات زندگی کے بارے میں میڈیا کو تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ گیتا اپنے والدین سے ملنے کے لئے شدید بے چین ہے اور  غم کے مارے اس نے کئی مرتبہ خود کشی کرنے کی بھی کوشش کی۔ ہم نے اسے بھروسہ دلایا کہ بہت جلد اسکے والدین کو تلاش کرلیا جائے گا۔صور ت شکل سے یہ لڑکی تیلگی خاندان سے تعلق رکھنے والی نظر آتی ہے۔ اس لئے ہم تلنگانہ اور مہاراشٹر کے سرحدی اضلاع میں جا کر اس کے والدین کی تلاش کررہے ہیں ۔سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اسکے بارے میں معلومات دے رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایک نہ ایک دن ہم ضرور اس کے والدین تک پہنچ جائیں گے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: