உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھکاری کے گھر چوری کی شکایت کے بعد کھلا ایسا راز، پولیس بھی رہ گئی دنگ

    اس واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب بزرگ بابو راؤ نائیک واڑے پولیس اسٹیشن گئے اور ایک لاکھ 72 ہزار روپے کی چوری کی شکایت کی۔

    اس واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب بزرگ بابو راؤ نائیک واڑے پولیس اسٹیشن گئے اور ایک لاکھ 72 ہزار روپے کی چوری کی شکایت کی۔

    اس واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب بزرگ بابو راؤ نائیک واڑے پولیس اسٹیشن گئے اور ایک لاکھ 72 ہزار روپے کی چوری کی شکایت کی۔

    • Share this:
    اکثر ہم بھکاریوں کو بہت غریب اور لاچار سمجھتے ہیں اور ان کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں لیکن آج ہم آپ کو مہاراشٹر کے بیڑ ضلع کے ایک لکھ پتی بھکاری سے تعارف کروائیں گے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک بھکاری لکھ پتی کیسے؟ لیکن یہ بات بالکل سچ ہے کہ اس واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب بزرگ بابو راؤ نائیک واڑے پولیس اسٹیشن گئے اور ایک لاکھ 72 ہزار روپے کی چوری کی شکایت کی۔ پہلے تو پولیس اہلکاروں کو یہ یقین نہیں ہوا اور وہ یہ بھی سوچنے لگے کہ ایک بھکاری کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟ لیکن بزرگ بابو راؤ کی شکایت سن کر پولیس نے اپنی تفتیش شروع کردی۔

    پولیس نے کچھ ہی گھنٹوں میں بابوراؤ کی چوری ہوئی رقم کو واپس لو ٹا دیا۔ ہم آپ کو بتادیں کہ یہ بزرگ بھکاری گذشتہ کئی سالوں سے ملک بھر کے مشہور پرلی وجناتھ مندر کے باہر بھیک مانگ کر اپنا پیٹ پالتے ہیں اور بھیک میں ملنے والی رقم کو بچا کر رکھتے ہیں تاکہ وہ اس رقم کو مصیبت کے وقت استعمال کرسکیں لیکن بابو راؤ کی رقم کی بھنک مندر کے قریب گھومنے والے چوروں کو لگ گئی اور ان لوگوں نے منصوبہ بندی کے تحت بابو راؤ کی زندگی بھر کی ایک لاکھ 72 ہزار روپے کی کمائی پر ہاتھ صاف کردیا۔



    پہلے تو بابو راؤ نے ان رقم کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن جب اسے لگا کہ پولیس اسٹیشن میں ہی بات بنے گی۔ تب انہوں نے اعلی پولیس افسران سے مدد کی درخواست کی۔

    بیڑ کی مقامی پولیس بھی بزرگ بابو راؤ کے لئے کسی فرشتہ سے کم ثابت نہیں ہوئی۔ اس نے بزرگ بھکاری کے آنسو پونچھتے ہوئےمدد کا بھروسہ دلایا۔ زندگی بھر کی کمائی چوری ہونے پر بابوراؤ پریشان اور افسردہ تھے لیکن پولیس نے پل بھر میں ہی ان کا مسئلہ حل کردیا۔ بابوراؤ نے بھی تہہ دل سے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: