ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ان لاک-1 کے بعد بھی کاروبار پر مندی کا اثر،  حالات معمول پر لانے کی کوشش جاری

ملک کے دیگر شہروں کی طرح ناندیڑ میں بھی دوماہ کے مکمل لاک ڈاؤن کے بعد اب دھیرے دھیرے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  • Share this:
ان لاک-1  کے بعد بھی کاروبار پر مندی کا اثر،  حالات معمول پر لانے کی کوشش جاری
ملک کے دیگر شہروں کی طرح ناندیڑ میں بھی دوماہ کے مکمل لاک ڈاؤن کے بعد اب دھیرے دھیرے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ناندیڑ : ملک کے دیگر شہروں کی طرح ناندیڑ میں بھی دوماہ کے مکمل لاک ڈاؤن کے بعد اب دھیرے دھیرے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ محدود اوقات میں دکانیں کھلی رکھنی کی جازت بھی دید ی گئی ہے لیکن کاروبار کی مندی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کا جو معاشی نقصان ہواہے ۔اس کی تلافی ابھی ممکن نظر نہیں آرہی ہے۔ اسی سلسلہ میں ناندیڑ کے بازاروں میں خرید و فروخت کے حالات کا جائزہ لینے پر کئی باتیں سامنے آئی ہے۔ سب سے پہلے ہم نے قدیم شہر کا مرکزی علاقہ منیا رگلی،برقی چوک ،اور محمد علی روڈ اور تارہ سنگھ مارکٹ کے علاقہ کا دورہ کیا ۔اور وہاں جاکر تاجروں سے بات کی اور ان سے مارکٹ کے موجودہ حالات کے بارے میں تفصیلات جاننے کی کوشش کی۔

حال ہی میں رمضان کا مبارک مہینہ ختم ہوا ہے ۔رمضان کے مہینہ میں عید کی خریداری ایک بڑے سیزن کی حیثیت رکھتا تھا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے مارکٹ کھل نہیں سکا اور عید کی خریداری کاپورا سیزن خالی چلا گیا ۔اب جبکہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی دیتے ہوئے دن کے محدود اوقات میں دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دیدی ہے ۔ناندیڑ میں ضلع انتظامیہ کی جانب ایک مکتوب جاری کرکے صبح ۹ بجے سے شام پانچ بجے تک دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دیدی ہے۔

عید کی خریداری کا سیزن ختم ہوتے ہی اب شادیوں کی خریداری کا سیزن شروع ہوچکا ہے ۔لیکن شادیوں میں محض پچاس افراد کی شرکت کی ہی اجازت دی گی جس کی وجہ سے شادیوں کی تقریبات بھی ملتوی کی جارہی ہے ۔لوگ پوری طرح پابندیاں ہٹنے کا انتظار کررہے ہیں ۔وہیں دوسری طرف دکانیں کھلنے کی اجازت ملنے پر تاجروںکو یہ امید تھی کہ کاروبار چل پڑے گے اور حالات معمول پر آجائیں گے ۔لیکن عملی طورپر ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہاہے ۔دکانیں کھلی ہے لیکن گاہکوں سے خالی ہے ۔ اس سلسلہ میں محمد طہ نامی کپڑوں کی دکان کے مالک سے بات کرنے پر انہوں نے کہا کہ دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت ملنے کے باوجود کاروبار میں مندی کے اثرات کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔


اس کیلئے انہوں نے تین اہم وجوہات بتائی پہلی وجہ دو ماہ تک مسلسل لاک ڈاؤن کے حالات کی وجہ سے لوگوں میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیل گئی ہے ۔کاروبار بند ہونے سے پیسہ نہیں ہے جو جمع پونجی لوگوں کے پاس تھی وہ اپنی بنیادی ضرورت کی چیزیں خریدنے میں خرچ ہوگئی ہے ۔اس لئے اب لوگوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہے کہ وہ مارکٹ میں بنیادی ضرورتوں کے علاوہ کسی اور چیز کی خریداری کرے ۔دوسری وجہ کے بارے میں محمد طہ نے کہا کہ انتظامیہ نے دکانیں کھلی رکھنے کیلئے جو دن میں محدود اوقات دئے ہیں ان کی وجہ سے بھی کاروبار متاثر ہورہے ہیں۔شہر میں جو خریداری ہوتی ہے اس کا ایک بڑا حصہ دیہات سے آنے والے خریداروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ دیہاتوں تو آنے والے خریداروں کے لئے ایک تو آنے جانے کے انتظامات نہیں ہے۔ بسے بند ہے نجی گاڑیاں بھی نہیں چل رہی ہے اس لئے وہ لوگ دیہاتوں سے شہر کی طرف نہیں آرہے ہیں۔


دوسری ایک اہم وجہ صبح ۹ بجے سے شام پانچ بجے کے جو اوقات دکانیں کھلی رکھنے کیلئے مختص کئے گئے ہیںوہ ان کے حساب سے مناسب نہیں ہے ۔پانچ بجے سے پہلے خریداری کرکے جب وہ گھر لوٹنے کے لئے اپنے گاؤں جانا چاہتے ہیں تو انہیں واپسی کے لئے سواریوں کا نظم نہیںہوتا ۔ایسے میں انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ دکانیں کھلی رکھنے کے اوقات میں اضافہ کرے ۔صبح نو بجے سے رات نو بجے تک دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت ملنی چاہئے ۔کاروبار پر مندی کے اثرات کے بارے میں ایک اور تاجر بابو بھائی سے بات کرنے پر انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ سے زیادہ ہوگیاہے دکانیں کھلی رکھے ہوئے لیکن ابھی تک کاروبار میں تیزی نہیں آئی ہے ۔دن بھر دکان میں بیٹھے رہتے ہیں بہت کم خریدار گھروں سے باہرنکل رہے ہیں ۔ایک تو کورونا کی بیماری کا ڈر وخوف اور دوسرے دھوپ اور گرمی کی وجہ سے بھی لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل رہے ہیں نتیجہ میں کاروبار زبردست متاثر ہورہاہے ۔کورونا وائرس سے بچنے کیلئے لاک ڈاؤن کا سہارا لیا گیا ۔اس حکمت عملی سے کورونا سے تو بچے لیکن کاروبار میں مندی کا شکار ہوگئے ۔اب اس مندی سے اوبھر نے کیلئے مزید کتنا وقت لگے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
First published: Jun 05, 2020 02:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading