உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہاردک پٹیل اور ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد سورت میں کشیدگی، حامیوں نے کی آگ زنی

    ہاردک پٹیل : فائل فوٹو

    ہاردک پٹیل : فائل فوٹو

    کرائم برانچ کے پولیس انسپکٹر ایس ایل چودھری نے بتایا کہ ہاردک اور ان کے آٹھ دیگر ساتھیوں کو سولا بھاگوت /ایس جی ہائی وے کے نزدیک واقع ان کی رہائش گاہ سے نکلتے وقت حراست میں لے لیا گیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کانگریس حمایت یافتہ پاٹیدار آرکشن آندولن سمیتی (پاس) کے لیڈر ہاردک پٹیل کو آج احمد آباد پولیس کی کرائم برانچ نے یہاں ان کی رہا ئش گاہ کے نزدیک اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ بغیر اجازت کے بھوک ہڑتال پر نکل رہے تھے۔ کرائم برانچ کے پولیس انسپکٹر ایس ایل چودھری نے بتایا کہ ہاردک اور ان کے آٹھ دیگر ساتھیوں کو، جن میں پاس کے سابق کنوینر منوج پنارا، دھارمک مالویہ اور الپیش کتھیریا بھی شال ہیں، کو سولا بھاگوت /ایس جی ہائی وے کے نزدیک واقع ان کی رہائش گاہ سے نکلتے وقت حراست میں لے لیا گیا۔ وہ لوگ بغیر اجازت بھوک ہڑتال کے لئے کار سے نکل کر نکول کی طرف جا رہے تھے۔

      چودھری نے بتایا کہ ان تمام کو بعد میں تعزیرات ہند کی دفعہ 182(سرکاری کام میں رخنہ ڈالنے ) اور 142کے تحت گرفتار کیا گیا لیکن ضمانت پر بھی رہا کردیا گیا۔ بعد میں ان کے حامیوں نے سورت کے پونا علاقہ میں بی آر ٹی ایس سٹی بس کو آگ لگا دی اور دودیگر میں توڑ پھوڑ کی۔ کچھ مقامات پر بی آر ٹی ایس کے اسٹیشن پر بھی توڑ پھوڑ کی۔ شہر کے پونا سرتھانا اور یوگی چوک جیسے پاٹیداروں کی اکثریت والے علاقوں سے بھی اس طرح کے واقعات کی خبر ہے۔
      دوسری طرف ہاردک نے رہائی کے بعد کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت کے اشارے پر انہیں پکڑا گیا اور بھوک ہڑتال کرنے کے ان کے جمہوری حق سے محروم کیا گیا۔ انہیں پولیس انسپکٹر جے این چاوڑا نے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔ وہ آئندہ 25اگست کو ضرورت پڑنے پر اپنی رہائش گاہ پر بھوک ہڑتال کریں۔ اگر انہیں جیل بھیجا گیا تو وہ وہیں پر بھوک ہڑتال شروع کردیں گے۔
      First published: