ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

گجرات میں لو جہاد کے خلاف بل پاس ، قصوروار کو مل سکتی ہے 10 سال تک کی جیل کی سزا

Gujarat Assembly Passes Bill Against Love Jihad: بل کے ذریعہ 2003 کے ایک قانون میں ترمیم کی گئی ، جس میں طاقت کی زور پر یا لالچ دے کر تبدیلی مذہب کرانے پر سزا کا بندوبست ہے ۔

  • Share this:
گجرات میں لو جہاد کے خلاف بل پاس ، قصوروار کو مل سکتی ہے 10 سال تک کی جیل کی سزا
گجرات میں لو جہاد کے خلاف بل پاس ، قصوروار کو مل سکتی ہے 10 سال تک کی جیل کی سزا

گجرات اسمبلی نے جمعرات کو اس بل کو پاس کردیا ، جس میں شادی کرکے دھوکہ دے کر یا زبردستی تبدیلی مذہب کرانے کے معاملہ میں دس سال تک کی قید کی سزا کا بندوبست ہے ۔ بل کے ذریعہ 2003 کے اس قانون میں ترمیم کی گئی ہے ، جس میں طاقت کی زور پر یا لالچ دے کر تبدیلی مذہب کرانے پر سزا کا بندوبست ہے ۔ حکومت کے مطابق گجرات مذہبی آزادی ( ترمیمی) بل 2021 میں اس بڑھتے چلن کو روکنے کا بندوبست ہے ، جس میں خواتین کو تبدیلی مذہب کرانے کے ارادہ سے شادی کرنے کیلئے بہلایا اور پھسلایا جاتا ہے ۔


موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ پردیپ سنگھ جڈیجہ نے بل پیش کیا۔ تاہم اس میں لو جہاد کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ جڈیجہ نے اپنے خطاب میں لو جہاد پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا قانون بہت سی ریاستوں اور دیگر ممالک میں بھی موجود ہے۔ ہندو سماج میں بیٹیوں کو کلیجے کا ایک ٹکڑا سمجھا جاتا ہے ، لیکن انہیں جہادیوں کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیا جاسکتا۔ نام بدل کر ہندو لڑکیوں کو پریم جال اور شادی میں پھنسا کر مذہب تبدیل کرنے والے جہادی عناصر سے سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ ریاستی حکومت اس رجحان کو روکنے کے لئے یہ قانون لا رہی ہے۔


وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ میانمار ، نیپال ، سری لنکا اور پاکستان میں ایسے قوانین موجود ہیں جن میں طرح طرح کی سزا کے التزامات ہیں۔ جڈیجہ نے جمال پور ، احمد آباد کے ایم ایل اے مسٹر کھیڑوالا کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ، جنہوں نے بل کے مسودے کو پھاڑ دیا تھا ، حالانکہ مسٹر کھیڑی والا نے بعد میں اس پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے مذہب کو نشانہ بنایا جاناٹھیک نہیں ہے۔


کانگریس کے ایک اور ایم ایل اے غیاث الدین شیخ نے بھی اس بل کی مخالفت کی ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان کے پاس 60 سے زیادہ ایسی مسلم لڑکیوں کی فہرست ہے جنہوں نے ہندو لڑکوں سے شادی کی اور اپنا مذہب تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اس بل میں جان بوجھ کر لو جہاد کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے، وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہر چھ ماہ بعد اس طرح کے شگوفے چھوڑتی رہتی ہے۔

قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے ممبر اسمبلی پریش دھنانی نے کہا کہ انہیں ہندو ہونے پر فخر ہے لیکن کچھ لوگ اس کا سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے نکلے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے بھی مذہب کی دیوار توڑنے کے لئے شادی کی تھی۔

نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔ 
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 01, 2021 11:54 PM IST