உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    درندگی کی انتہا! بچی کو ننگا کرکے پیٹا ، پھر پرائیویٹ پارٹ میں ڈال دی ایسی خوفناک چیز، جان کر اڑجائیں گے ہوش

    درندگی کی انتہا! بچی کو ننگا کرکے پیٹا ، پھر پرائیویٹ پارٹ میں ڈال دی ایسی خوفناک چیز، جان کر اڑجائیں گے ہوش

    درندگی کی انتہا! بچی کو ننگا کرکے پیٹا ، پھر پرائیویٹ پارٹ میں ڈال دی ایسی خوفناک چیز، جان کر اڑجائیں گے ہوش

    راجسمند میں رشتہ داروں نے سات سال کی معصوم بچی کے ساتھ درندگی کی حدیں پار کردیں ۔ اس کے ہاتھ پاوں کے ناخن تک اکھاڑ دئے گئے ۔

    • Share this:
      راجستھان کے راجسمند میں رشتہ داروں کے یہاں رہنے آئی سات سال کی معصوم بچی کے ساتھ درندگی کی ساری حدیں پار کردی گئیں ۔ بچی کی چھوٹی سی غلطی پر بے رحم رشتہ داروں نے لوہے کی گرم راڈ اور جلتی سگریٹ سے اس کو داغا ۔ اتنے سے بھی جب دل نہیں بھرا تو معصوم کے ہاتھ پاوں کے ناخن اکھاڑ ڈالے ۔ بچی کی ماں کی موت کے بعد اس کے والد نے دوسری شادی کرلی اور سورت چلا گیا ۔ وہیں بچی کو رشتہ داروں کے یہاں چھوڑ گیا تھا ۔ بچی کے پرائیویٹ پارٹ میں مرچ پاوڈر تک ڈالا گیا ۔

      یہ واقعہ بھیم تھانہ علاقہ کے تھانیٹا گاوں میں پیش آیا ہے ۔ تھانہ افسر گجیندر سنگھ نے بتایا کہ بچی کے ساتھ درندگی کرنے کے الزام میں کشن سنگھ اور اس کی بیوی ریکھا کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بچی کو لوہے کی راڈ سے کیوں داغا گیا ؟ اس کے ناخن کیوں اکھاڑے گئے ؟ ان سب پہلووں پر پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ ملزمین بچی کے والد کے رشتہ دار ہیں ۔ بچی کے والد سورت میں مزدوری کرتے ہیں ، ایسے میں بچی کو گاوں میں رشتہ دار کشن سنگھ کے یہاں دیکھ بھال کیلئے چھوڑ گئے تھے ۔

      چائلد ویلفیئر کمیٹی کی سربراہ بھاونا پالیوال نے بتایا کہ بچی سے گھر کا جھاڑو پوچھا سمیت سارے کام کروائے جاتے تھے ۔ جب بھی وہ غلطی کرتی تو بے رحمی سے اس کی پٹائی کی جاتی ۔ اس کو کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ معصوم کے پرائیویٹ پارٹ میں مرچ پاوڈر تک ڈال دیا گیا تھا ۔ بچی کے ہاتھ پاوں باندھ کر الٹا لٹکا کر اس کی پٹائی کرتے تھے ۔

      جعہ کی صبح بچی کو ننگا کرکے مارپیٹ کرنے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا ۔ اس پر بچوں کیلئے کام کرنے والے ادارہ چائلڈ لائن کے لوگ گاوں پہنچے ۔ وہاں پوچھ گچھ کی تو بچی کے ساتھ بربریت کا انکشاف ہوا ۔ پھر پولیس کو اس کی اطلاع دی گئی ۔

      تاہم درندگی کے اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی پولیس نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ بچی کو تھانہ میں آٹھ گھنٹوں تک بیٹھا کر رکھا گیا ۔ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ۔ بعد میں لیگل سروس اتھاریٹی راجسمند اور دیگر اعلی حکام کی مداخلت کے بعد معاملہ درج کیا گیا اور اس کے بعد بچی کا میڈیکل ہفتہ کو کروایا گیا ۔ فی الحال بچی چائلڈ لائن کے پاس ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: