உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الورموب لنچنگ: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف "ٹوٹ گئی تھی اکبرکے ہاتھ پیرکی ہڈی، جسم پرتھے 12 نشانات"۔

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    راجستھان کے الورموب لنچنگ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اکبرعرف رکبرخان کے ہاتھ اورایک پیرکی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اورجسم پر 12 نشانات تھے۔

    • Share this:
      راجستھان کے الور میں مبینہ طور پر گایوں کی اسمگلنگ  کے شک میں بھیڑکے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کئے گئے اکبرعرف رکبرخان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ رکبرکے ہاتھ اورایک پیرکی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔

      رپورٹ کے مطابق رکبرکے جسم پر 12 جگہ چوٹ کے نشانات بھی ملے ہیں۔ اس معاملے میں اب تک 4 پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے جبکہ دوملزمین کوگرفتارکیا گیا ہے۔ اسی درمیان رکبرکی ایک تصویربھی سامنے آئی ہے، اس میں رکبرپولیس کی وین (گاڑی) میں بیٹھا ہے اورزندہ ہے۔

      اس تصویرمیں اس کی آنکھیں بند ہیں، چہرے پربائیں طرف کچھ چوٹ کے نشان بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ حالانکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اس سے بالکل الگ ہے۔ پوسٹ مارٹم کرنے والی ٹیم کےڈاکٹرراجیوکمارگپتا، ڈاکٹرامت متل اورڈاکٹرسنجے گپتا نے جورپورٹ جاری کی ہے، اس کے مطابق رکبرکےہاتھ اورپیرکی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے اوراس کے جسم پر12 جگہ چوٹ کے نشان ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ رکبرکواندرونی چوٹیں آئی تھیں، جس کے بعد جسم کے اندر ہی خون پھیل گیا تھا۔

      اس سے قبل اپنے بیانات کو لے کرسرخیوں میں رہنے والے بی جے پی ممبراسمبلی گیا ن دیو آہوجا نے الورموب لنچنگ کو لے کر بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ گایوں کی اسگلنگ کے شک میں اکبرخان عرف رکبر کی موت بھیڑ کی پٹائی سے نہیں بلکہ پولیس کی مار سے ہوئی ہے۔  انہوں نے کہا تھا کہ بھیڑنے رکبرخان کو صرف کچھ تھپڑمارےتھے، جب رکبرکو رام گڑھ تھانہ پولیس لے کرآئی، تو پولیس نے گاوں والوں کے سامنے ہی اس کی جم کر پٹائی کی۔ بی جے پی ممبراسمبلی کا دعویٰ ہے کہ ایسا کرکے پولیس نے لوگوں کے سامنے یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ بھی گائے کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ اس کے بعد الورکے ایس پی راجیندرسنگھ سے جب اس بارے میں بات کی گئی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ معاملے میں بی جے پی ممبراسمبلی کے الزامات کی جانچ کرائیں گے، جو بھی پولیس افسراس میں قصوروار پایا جائے گا، اس کےخلاف سخت کارروائی ہوگی۔
      First published: