உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Alwar Gangrape Case: شوہر کو یرغمال بنا کر بیوی کی اجتماعی عصمت دری کرنے والے 5 ملزمین کی سزا کا اعلان

    شوہر کو یرغمال بنا کر بیوی کی اجتماعی عصمت دری کرنے والے 5 ملزمین کی سزا کا اعلان

    شوہر کو یرغمال بنا کر بیوی کی اجتماعی عصمت دری کرنے والے 5 ملزمین کی سزا کا اعلان

    واضح رہے کہ 26 اپریل 2019 کو تھانہ غازی کا رہنے والا ایک جوڑا موٹرسائکل پر جارہا تھا کہ پانچ افراد نے ان کا پیچھا کرکے انہیں روک لیا۔ اس کے بعد وہ انہیں زبردستی جنگل میں لے گئے جہاں خاتون کے ساتھ اس کے شوہر کے سامنے اجتماعی آبروریزی کی۔ ملزمین نے اس کا ویڈیو بھی بنایا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معاملہ سامنے آیا اور دو مئی کو اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

    • Share this:
      الور۔ راجستھان کے الور ضلع میں مشہور تھانہ غازی اجتماعی آبروریزی معاملے میں عدالت نے آج پانچ ملزمین کو قصوروار قرار دیا۔ درج فہرست ذات و قبائل مظالم کے حل کے معاملوں کے اسپیشل جج برجیش کمار کی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس معاملے کے ملزم اندراج ،چھوٹے لال،ہنس راج اور مکیش گرجر کو قصوروار مانا ہے۔ عدالت نے ملزمین کو ذات سے متعلق الزام سے بری کردیا ہے۔ عدالت میں سزا کے نکات پر بحث پوری ہونے کے بعد چار مجرموں کو عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس میں مجرم ہنس راج کو آخری سانس تک جیل میں رہنے کی سزا سنائی گئی ہے۔ جبکہ 5 ویں مجرم مکیش کو 5 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ فیصلے کے پیش نظر عدالت کے احاطے میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ عدالت کے آس پاس بھاری بھیڑ جمع ہے۔


      اس معاملے میں سماعت پوری کرنے کے بعد عدالت نے منگل کو فیصلہ سنائے جانے کی تاریخ طے کی تھی۔ اس معاملے میں ان پانچ ملزمین کے علاوہ ایک جوینائل بھی ملزم ہے،جس پر جوئنائل جسٹس بورڈ میں سماعت چل رہی ہے۔

      پچھلے سال 2 مئی کو درج ہوا تھا معاملہ

      واضح رہے کہ 26 اپریل 2019 کو تھانہ غازی کا رہنے والا ایک جوڑا موٹرسائکل پر جارہا تھا کہ پانچ افراد نے ان کا پیچھا کرکے انہیں روک لیا۔ اس کے بعد وہ انہیں زبردستی جنگل میں لے گئے جہاں خاتون کے ساتھ اس کے شوہر کے سامنے اجتماعی آبروریزی کی۔ ملزمین نے اس کا ویڈیو بھی بنایا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معاملہ سامنے آیا اور دو مئی کو اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

      نیوز ایجنسی یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: