உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سلمان کے بری ہونے پر آسارام نے کہا : میں نے تو قتل بھی نہیں کیا ، پھر سلاخوں کے پیچھے کیوں؟

    جودھپور: بالی ووڈ کے مشہور اداکار سلمان خان کو آج بامبے ہائی کورٹ نے ہٹ اینڈ رن کیس میں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ یہ خبر جودھپور جیل میں بند خود ساختہ سنت آسارام ​​کو ملی تو وہ خفا ہو گئے۔ نابالغ سے جنسی استحصال کے الزام میں جیل میں بند آسارام ​​سلمان سے حسد کرتے نظر آئے۔

    جودھپور: بالی ووڈ کے مشہور اداکار سلمان خان کو آج بامبے ہائی کورٹ نے ہٹ اینڈ رن کیس میں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ یہ خبر جودھپور جیل میں بند خود ساختہ سنت آسارام ​​کو ملی تو وہ خفا ہو گئے۔ نابالغ سے جنسی استحصال کے الزام میں جیل میں بند آسارام ​​سلمان سے حسد کرتے نظر آئے۔

    جودھپور: بالی ووڈ کے مشہور اداکار سلمان خان کو آج بامبے ہائی کورٹ نے ہٹ اینڈ رن کیس میں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ یہ خبر جودھپور جیل میں بند خود ساختہ سنت آسارام ​​کو ملی تو وہ خفا ہو گئے۔ نابالغ سے جنسی استحصال کے الزام میں جیل میں بند آسارام ​​سلمان سے حسد کرتے نظر آئے۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:

      جودھپور: بالی ووڈ کے مشہور اداکار سلمان خان کو آج بامبے ہائی کورٹ نے ہٹ اینڈ رن کیس میں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ یہ خبر جودھپور جیل میں بند خود ساختہ سنت آسارام ​​کو ملی تو وہ خفا ہو گئے۔ نابالغ سے جنسی استحصال کے الزام میں جیل میں بند آسارام ​​سلمان سے حسد کرتے نظر آئے۔


      کورٹ سے نکلتے ہوئے آسارام نے کہا کہ قتل کرنے پر سلمان کو بری کردیا گیا۔ یہ بڑی ناانصافی ہے۔ آسارام ​​نے آگے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی کو نہیں مارا اور نہ ہی کوئی جرم کیا ، لیکن پھر بھی وہ جیل میں ہیں۔


      غور طلب ہے کہ آسارام ​​ستمبر 2013 سے جودھپور کی جیل میں بند ہیں۔ آسارام ​​کو مدھیہ پردیش کے اندور سے گرفتار کر کے یکم ستمبر 2013 کو جودھپور لایا گیا تھا۔ دو ستمبر 2013 سے وہ جودھپور کی سینٹرل جیل میں بند ہیں۔ آسارام ​​کے خلاف جودھپور میں واقع ان کے آشرم میں جنسی تشدد کا الزام لگاتے ہوئے 16 سال کی ایک لڑکی نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔


      اپنی شکایت میں نابالغ لڑکی نے الزام لگایا تھا کہ آسارام ​​کے ساتھیوں نے اسے جودھپور آشرم میں یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ اس پر بری آتما کا اثر ہے اور آسارام ​​بری آتما کو بھگا سکتے ہیں۔

      First published: