உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آسارام کی ٹیم کا یہ ہے پلان، "باپو" سے پہلے شلپی کو نکالیں گے باہر

    ریپ کا قصوروار آسارام:فائل فوٹو

    ریپ کا قصوروار آسارام:فائل فوٹو

    آساررام کو جیل سے باہر نکالنے کیلئے اب اس کے حامیوںنے نیا پلان بنایا ہے۔سینئر وکیلوں کے ساتھ مل کر آسارام کے حامی اب قانونی پہلوؤں پر آسارام کو باہر نکالنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔

    • News18.com
    • Last Updated :
    • Share this:
      آساررام کو جیل سے باہر نکالنے کیلئے اب اس کے حامیوںنے نیا پلان بنایا ہے۔سینئر وکیلوں کے ساتھ مل کر آسارام کے حامی اب قانونی پہلوؤں پر آسارام کو باہر نکالنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔آسار ام کے قریبی رہے ایک حامی نے نیوز 18 کو بتایا کہ انہوں نے "باپو"کی ضمانت کا پلان بنا لیا ہے۔اس کے تحت سب سے پہلے وہ ہائی کورٹ میں سنچیتا عرف شلپی کی عرضی لگائیں گے۔

      اس عرضی کو لیکر شلپی کے والد مہیندر کمار جودھپور پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے سینئر وکیل مہیش بوڑا سے ملاقات بھی کر لی ہے۔عائے پور چھتیس گڑھ کے رہنے والے مہیندر اور بوڑا کے درمیان ہوئی اس ملاقات میں شلپی کی سزا پر روک کیلئے بات ہوئی ہے۔یونی سلمان خان کا ن کیس لڑنے والے مہیش بوڑا اب پیر کو شلپی کی عرضی ہائی کورٹ میں دائر کر سکتے ہیں۔اس سے پہلے جمعہ کو وکالت نامہ دستخط کرنے کی کارروائی پوری کئے جانے کا امکان ہے۔

      جنسی استحصال کیس کے الزام میں قصوروار پائے جانے پر بدھ کو آسارام کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف جمعراتکو ان کے وکیل راجستھانہائی کورٹ نہیں پہنچے ۔قیس لگائے جا رہے تھے کہ آسارام کی جانب سے کورٹ میں اپیل پیش کی جائے گی لیکن ایسا کچھ نہین ہوا۔ٹرائل کورٹ کے 453 صفحات کے فیصؒے کو پڑھنے کے بعد اپیل کیلئے آسارام کے وکیلوں کو ابھی ایک دو دن کا وقت لگ سکتا ہے۔

      غور طلب ہے کہ راجستھان کی جودھپور سینٹرل جیل میں بدھ کو مقامی عدالت نے نا بالغ بچوں سے ریپ کے معاملے میں آسارام کو قصوروا قرار دیتے ہوئے تا زندگی قید کی سزا سنائی ۔کورٹ نے ان کے علاوہ دو دیگر ملزموں کو بھی قسوروار ٹھہرایا ہے۔جبکہ دو بری ہو گئے ہیں۔

      واضح ہو کہ یہ  معاملہ 2013 کاہے جہاں متاثرہ کے ساتھ آسارام نے اپنے ہی آشرم  میں ریپ کیا تھاسارام گزشتہ 56 ماہ یعنی قریب 5 سال سے عدالتی حراست میں تھے  ۔ریپ اور جنسی استحصال کی مختلف دفعات میں قصوروار ٹھہیرائے جانے کے بعد تا عمر جیل میں گزاریں گے۔
      First published: