ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

دینی مدارس میں جمعہ کی چھٹی کی منسوخی اسلامی عبادت میں خلل اندازی کی کوشش: نسیم خان

ممبئی۔ مہاراشٹر کے سابق اقلیتی امور کے وزیر وسینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے یہاں آسام کی بی جے پی حکومت کی جانب سے دینی مدارس میں جمعہ کی چھٹی کی منسوخی کے احکامات کو اسلامی عبادت میں خلل اندازی کی مذموم کوشش قرار دیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 01, 2016 09:22 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
دینی مدارس میں جمعہ کی چھٹی کی منسوخی اسلامی عبادت میں خلل اندازی کی کوشش: نسیم خان
علامتی تصویر

ممبئی۔ مہاراشٹر کے سابق اقلیتی امور کے وزیر وسینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے  یہاں آسام کی بی جے پی حکومت کی جانب سے دینی مدارس میں جمعہ کی چھٹی کی منسوخی کے احکامات کو اسلامی عبادت میں خلل اندازی کی مذموم کوشش قرار دیا اور کہا کہ آسام کی بی جے پی حکومت آر ایس ایس کے خفیہ ایجنڈے پر عمل کرکے مسلم مخالف اقدامات کررہی ہے - واضح رہے کہ گزشتہ روز آسام کے وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ آسام میں جو دینی مدارس سرکاری مالی تعاون حاصل کررہے ہیں اب انہیں جمعہ کے دن اپنے مدارس میں جمعہ کے دن چھٹی کرنے کا اختیار نہیں ہوگا اور اسکولوں کی طرز پر اتوار کے دن ہی انہیں بھی ہفتہ روزہ چھٹی دی جائے گی- نسیم خان نے کہا کہ حکومت آسام کا یہ دینی مدارس ومسلم مخالف قانون ہے کیونکہ ملک میں جب سے دینی مدارس کا قیام عمل میں آیا ہے اس دن سے ہفتہ میں ایک دن چھٹی کے لئے جمعہ کا ہی دن مقرر کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا، اچھے صاف ستھرے کپڑے پہننا ، خوشبو لگانا اورعلاقہ کی بڑی مسجد میں اجتماعی طور پر نماز جمعہ ادا کرنا یہ تمام چیزیں اسلامی روایات ہیں اور اس کی تکمیل کے لئے وقت درکار ہوتا ہے لہذا زمانے قدیم سے ملک میں دینی مدارس جمعہ کے دن چھٹی منایا کرتےہیں۔


انہوں نے کہا کہ جمعہ کا اہتمام کرنا ایک جانب جہاں اسلامی عبادات کا حصہ ہے وہیں دوسری جانب دینی مدارس میں بھی یہی تعلیم دی جاتی ہے نیز مدارس میں جمعہ کی چھٹی منسوخ کئے جانے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی جانب سے تشکیل دی گئی ’’مدرسہ مورڈنائیزیشن اسکیم‘‘ کے بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ،کیونکہ مسلمان جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے گورنمنٹ کی مالی امداد کو ٹھکرا سکتا ہے،مگر اپنے مذہب پر عمل کرنے کو نہیں چھوڑ سکتا ہے۔اس سے جن مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم کی تعلیم دی جارہی ہے اس سلسلہ کے منقطع ہوجانے کا بھی اندیشہ ہے۔ سابق وزیر نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر سخت لفظوں میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب سے مرکز میں نریندر مودی کی قیادت والی بھگواسرکار اقتدار میں آئی ہے وہ اور ریاستی بی جے پی قیادت والی حکومتیں پے درپے ایسے قوانین تشکیل دے رہی ہے جس سے ملک کی ہم آہنگی کو خطرہ لاحق ہورہا ہے اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھی مجروح ہورہے ہیں ۔

First published: Dec 01, 2016 09:22 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading