ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس میں دو مسلم نوجوانوں کی ضمانت منظور

مہاراشٹر میں ہوئے ایک دہشت گردانہ واقعہ بنام اورنگ آباداسلحہ ضبطی معاملے میں نچلی عدالت سے مجرم گردانے گئے گنجان آبادی والے مسلم شہر مالیگاؤں کے دو مسلم نوجوانوں کو آج اس وقت راحت حاصل ہوئی جب ممبئی ہائی کورٹ نے انہیں مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کئے

  • UNI
  • Last Updated: Oct 08, 2016 09:14 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس میں دو مسلم نوجوانوں کی ضمانت منظور
مہاراشٹر میں ہوئے ایک دہشت گردانہ واقعہ بنام اورنگ آباداسلحہ ضبطی معاملے میں نچلی عدالت سے مجرم گردانے گئے گنجان آبادی والے مسلم شہر مالیگاؤں کے دو مسلم نوجوانوں کو آج اس وقت راحت حاصل ہوئی جب ممبئی ہائی کورٹ نے انہیں مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کئے

ممبئی: مہاراشٹر میں ہوئے ایک دہشت گردانہ واقعہ بنام اورنگ آباداسلحہ ضبطی معاملے میں نچلی عدالت سے مجرم گردانے گئے گنجان آبادی والے مسلم شہر مالیگاؤں کے دو مسلم نوجوانوں کو آج اس وقت راحت حاصل ہوئی جب ممبئی ہائی کورٹ نے انہیں مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کئے۔

واضح رہے کہ اسی برس کی2 فروی کو ملزمین مشتاق احمد محمد اسحاق اور جاوید احمد عبدالمجید انصاری کو خصوصی مکوکا عدالت نے آٹھ سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی جس کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمیعت علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) نے ملزمین کی سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کئے جانے کی اپیل ممبئی ہائی کورٹ سے کی تھی۔

ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس پی این دیشمکھ کے روبرو آج عرضداشت پر بحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ خصوصی مکوکا عدالت نے عرض گذاروں کو جو سزاء4 تجویز کی ہے وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ اس معاملے سے ملزمین کا کوئی لینا دینا نہیں لیکن اس کے باجود صرف شک کی بنیاد پر خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین کو آٹھ سال کی سزا سنائی ہے۔

ایڈوکیٹ شریف شیخ نے کہا کہ ملزمین آٹھ سال میں سے سات سال اور دس ماہ جیل میں گذارچکے ہیں اور قانونی کے مطابق نصف سے زائد سزا جیل میں گذارنے والے قیدی کو اس کی اپیل کی سماعت کے اختتام تک ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے لہذا ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔  دفاعی وکیل کے دلائل کے بعد سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت عرض گذاروں کی سزاؤں میں اضافہ کی اپیل جلد ہی داخل کرنے والی ہے لہذا انہیں اس کی سماعت مکمل ہونے تک ضمانت پر رہا نہیں کیا جانا چاہئے۔

فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس دیشمکھ نے عرض گذاروں مشتاق احمد اور جاوید احمد کو اس شرط پر ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے کہ وہ ماہ میں ایک مرتبہ مالیگاؤں کے مقامی پولس اسٹیشن میں حاضری دیں گے اور ہر تین ماہ بعد ممبئی اے ٹی ایس آفس میں ان کی حاضری لازمی ہوگی۔

ممبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد جمعیت علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں امید تھی کہ اپیل کی سماعت ہوتے ہی مشتاق اور جاوید کو ضمانت مل جائیگی نیز دونوں کو تلوجہ جیل سے جلد از جلد رہا کرائے جانے کے تعلق سے کاغذی کارروائی شروع کردی گئی ہے اور ہائی کورٹ کے حکم نامہ کی اصل نقول ملتے ہی ان کی رہائی کے لیئے خصوصی مکوکا عدالت کے رجسٹرار سے رجوع کیا جائے گا۔
First published: Oct 08, 2016 09:14 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading