உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Maharashtra: یہاں گوشت و مچھلی کی فروخت پر لگی روک، مقامی انتظامیہ کو کیوں لینا پڑا فیصلہ، جانئے

    Maharashtra: یہاں گوشت و مچھلی کی فروخت پر لگی روک، مقامی انتظامیہ کو کیوں لینا پڑا فیصلہ، جانئے

    Maharashtra: یہاں گوشت و مچھلی کی فروخت پر لگی روک، مقامی انتظامیہ کو کیوں لینا پڑا فیصلہ، جانئے

    مہاراشٹر کے پونے ضلع میں سنت توکارام کی جائے پیدائش دیہو میں میونسپل باڈی نے گوشت اور مچھلی کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔ کچے اور پکے گوشت اور مچھلی پر پابندی جمعہ سے لاگو ہوگئی ۔

    • Share this:
      پونے : مہاراشٹر کے پونے ضلع میں سنت توکارام کی جائے پیدائش دیہو میں میونسپل باڈی نے گوشت اور مچھلی کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔ کچے اور پکے گوشت اور مچھلی پر پابندی جمعہ سے لاگو ہوگئی ۔ مہاراشٹر کی عقیدتمندی روایات سے وابستہ مشہور سنتوں میں سے ایک توکارام 17ویں صدی کے اوائل میں اسی شہر میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے ہزاروں عقیدت مند ہر روز یہاں ان کے مندر میں آتے ہیں ۔ دیہو نگر پنچایت کے چیف افسر پرشانت جادھو نے کہا کہ "25 فروری کو نگر پنچایت کی پہلی جنرل باڈی میٹنگ میں ورکاریوں (بھگوان وٹھل کے عقیدت مندوں) اور مقامی باشندوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیہو شہر میں مچھلی اور گوشت کی فروخت پر پابندی لگانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : شرمناک! دو دنوں تک ماں کی لاش کے پاس روتا اور بلکتا رہا بچہ ، مگر اس خوف سے کسی نے نہیں لیا گود

      انہوں نے کہا کہ مندروں کا شہر ہونے کی وجہ سے یہاں صرف چند دکانوں میں ہی نان ویجیٹیرین اشیا فروخت کی جاتی تھیں ، لیکن اب وہ بھی بند ہو گئی ہیں۔ توکارام مندر ٹرسٹ کے ٹرسٹیوں میں سے ایک سنجے مورے نے کہا کہ ہر طرف سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ شہر میں مچھلی اور گوشت کی فروخت پر پابندی لگائی جائے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : باپ اور بھائی نے کی آبروریزی، دادا کرتا تھا چھیڑ چھاڑ، نابالغ نے اسکول میں بتائی آب بیتی تو سبھی کی کانپ گئی روح!


      قابل ذکر ہے کہ مراٹھی سنتوں اور کاویہ کی 'وارکاری' روایت میں توکارام کو سب سے بڑا نام سمجھا جاتا ہے ۔ پونے کے قریب دیہو میں واقع گاتھا مندر توکارام کی وراثت ہے، جہاں دیواروں پر ان کی شاعری کندہ ہے۔ سنت توکارام کی یاد میں منعقد ہونے والے میلے میں لاکھوں عقیدت مند شریک ہوتے رہے ہیں ۔

      سنت توکارام کے منہ سے وقتاً فوقتاً بے ساختہ طور پر گائی جانے والی 'ابھنگ وانی' کے علاوہ ان کا کوئی خاص ادبی کام دستیاب نہیں ہے ۔ وہ ایک عظیم سنت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم مفکر بھی تھے۔ ان کے بھجنوں اور گائی ہوئی تخلیقات کو ان کے شاگردوں نے لکھ کر رکھا ہے ۔ اس طرح کے تقریباً 4000 'ابھنگ' دستیاب ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: