உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ نے خارج کی انل دیشمکھ کی عرضی ، کہا : الزامات سنگین ہیں ، آزادانہ جانچ ضروری

    سپریم کورٹ نے خارج کی انل دیشمکھ کی عرضی ، کہا : الزامات سنگین ہیں ، آزادانہ جانچ ضروری

    سپریم کورٹ نے خارج کی انل دیشمکھ کی عرضی ، کہا : الزامات سنگین ہیں ، آزادانہ جانچ ضروری

    Maharashtra Corruption Case: ہائی کورٹ سے سی بی آئی جانچ کے حکم کے بعد سپریم کورٹ پہنچے انل دیشمکھ اور مہاراشٹر سرکار کو راحت نہیں ملی ہے ۔ عدالت عظمی نے عرضی کو خارج کردیا ہے ۔

    • Share this:
      ممبئی : مہاراشٹر میں جاری وصولی ڈراما کے درمیان بڑی خبر ہے ۔ سپریم کورٹ نے ریاست کے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ اور مہاراشٹر حکومت کی عرضی کو خارج کردیا ہے ۔ اس عرضی میں سرکار اور سابق وزیر نے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا ۔ گزشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ نے سابق وزیر پر لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کے خلاف سی بی آئی جانچ کے حکم دئے تھے ۔ دیشمکھ پر ممبئی پولیس کے سابق کمشنر پرمبیر سنگھ نے بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے ۔

      ہائی کورٹ سے سی بی آئی جانچ کے حکم کے بعد سپریم کورٹ پہنچے انل دیشمکھ اور مہاراشٹر سرکار کو راحت نہیں ملی ہے ۔ جسٹس سنجے کشن کول اور ہیمنت گپتا کی بینچ نے عرضی کو خارج کردیا ہے ۔ ریاستی حکومت کا کہنا تھا کہ عدالت سابق وزیر داخلہ کو موقع دئے بغیر ان کے خلاف جانچ کا حکم نہیں دے سکتی ۔ اس سے پہلے دیشمکھ نے کہا تھا کہ اگر وزیر اعلی چاہیں تو جانچ کا حکم دیدیں ، میں اس کا خیرمقدم کروں گا ۔

      معاملہ کی سماعت کے دوران جسٹس کول نے کہا کہ الزامات کی سنگینی اور شامل لوگوں کو دیکھتے ہوئے اس معاملہ میں آزاد ایجنسی سے جانچ کرائے جانے کی ضرورت ہے ۔ یہ لوگوں کے بھروسہ کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی حکم دیا گیا ہے ، اس میں صرف شروعاتی جانچ کی بات ہے ، اس لئے ہم کسی حکم میں دخل نہیں دینا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ میں شامل دو لوگ الگ ہونے سے پہلے ساتھ کام کررہے تھے ، دونوں اعلی عہدوں پر تھے ، ایسے میں ایک آزادانہ جانچ کی ضرورت ہے ۔

      سرکار نے اپنی عرضی ہائی کورٹ کی طرف سے جاری کئے گئے جانچ کے حکم کی کارروائی پر سوال اٹھائے تھے ۔ گزشتہ 25 مارچ کو دائر عرضی میں سنگھ نے کہا تھا کہ دیشمکھ نے برخاست پولیس اہلکار سچن وازے سمیت کئی پولیس اہلکاروں سے ممبئی کے بار اور ریستوراں سے 100 کروڑ روپے کی وصولی کرنے کیلئے کہا تھا ۔ ساتھ ہی انہوں نے پولیس کے معاملات میں دخل کے الزامات بھی لگائے تھے ۔

      حالانکہ وزیر نے سبھی الزامات کو خارج کردیا تھا اور اخلاقی بنیاد کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اپنے عہدہ سے استعفی دیدیا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: