உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bilkis Banoکیس میں قصورواروں کی رہائی پر سپریم کورٹ نے مرکز اور گجرات حکومت کو جاری کیا نوٹس

    Youtube Video

    2002 Bilkis Bano case: بتادیں کہ یہ 11 مجرم بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری اور ان کے خاندان کے 7 افراد کو قتل کرنے کے جرم میں 15 سال سے جیل میں تھے، لیکن گجرات حکومت نے ریاست میں نافذ رہائی کی پالیسی کے تحت 15 اگست کو مجرموں کو رہا کردیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Gujarat, India
    • Share this:
      Bilkis Bano Case: سپریم کورٹ (Supreme Court) نے بلقیس بانو کیس کے قصورواروں کی رہائی کے خلاف دائر درخواست پر حکومت گجرات کو نوٹس جاری کردیا۔ معاملے کی سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔ چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس اجے رستوگی اور وکرم ناتھ کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ سماجی کارکن سبھاشنی علی، روپ ریکھا ورما اور صحافی ریوتی لال نے اس معاملے میں 11 قصورواروں کو رہا کرنے کے گجرات حکومت کے حکم کو رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
      بتادیں کہ یہ 11 مجرم بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری اور ان کے خاندان کے 7 افراد کو قتل کرنے کے جرم میں 15 سال سے جیل میں تھے لیکن گجرات حکومت نے ریاست میں نافذ رہائی کی پالیسی کے تحت 15 اگست کو مجرموں کو رہا کردیا۔
      بلقیس بانو نے مجرموں کی رہائی کے بعد کیا کہا؟
      گجرات حکومت کی طرف سے 11 مجرموں کی رہائی کے بعد، بلقیس بانو نے کہا، "15 اگست 2022 کو جو کچھ ہوا، اس نے مجھے 20 سال پہلے ہونے والے حادثے کی یاد دلا دی۔ جب سے میں نے سنا ہے کہ 11 مجرم جنہوں نے میرے خاندان اور میری زندگی کو تباہ کردیا، ان کی سزا معاف کر دی گئی ہے۔ مجھے اس کا بہت دکھ ہے۔ انہوں نے مجھ سے میری تین سال کی بیٹی بھی چھین لی، مجھ سے میرا خاندان چھین لیا اور آج انہیں معاف کر دیا گیا ہے۔ میں حیران ہوں."

      اس واقعہ پر برہمی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے سی بی آئی جانچ کا حکم دیا۔ اس کیس کے ملزمان کو 2004 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مقدمے کی سماعت احمد آباد میں شروع ہوئی۔ تاہم جب بلقیس بانو نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ گواہوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور سی بی آئی کے ذریعہ جمع کیے گئے شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی، تو سپریم کورٹ نے اگست 2004 میں کیس کو ممبئی منتقل کر دیا۔

      یہ بھی پڑھیں: IS دہشت گرد سے پوچھ۔گچھ کیلئے ہندستانی تحقیقاتی ٹیم ماسکو روانہ

      سی ایم ہیمنت سورین کا قریبی پریم پرکاش گرفتار، کل چھاپہ ماری میں ملی تھیں دوAK- 47 رائفل

      بلقیس بانو کون ہے؟

      27 فروری 2002 کو سابرمتی ایکسپریس کی ایک کوچ کو جلانے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا جس میں 59 'کارسیوک' مارے گئے۔ اسی دوران بلقیس بانو اپنی چھوٹی بیٹی اور دیگر 15 افراد کے ساتھ اپنے گاؤں سے بھاگ گئیں، جو اس وقت پانچ ماہ کی حاملہ تھیں۔ 3 مارچ کو انہوں نے ایک کھیت میں پناہ لی جب درانتیوں، تلواروں اور لاٹھیوں سے لیس 20 تا 30 لوگوں کے ہجوم نے ان پر حملہ کیا۔ بانو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس کے خاندان کے سات افراد کو قتل کر دیا گیا۔ چھ دیگر ارکان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: