உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bilkis Bano Case: بلقیس بانو ریپ کیس، سپریم کورٹ میں آج 11 مجرموں کی رہائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت

    بالقیس بانو (فائل فوٹو)

    بالقیس بانو (فائل فوٹو)

    Bilkis Bano Case: بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کے مجرم 11 افراد کی رہائی کو چیلنج کرنے والی تین درخواستوں پر آج یعنی جمعرات کو سماعت کی جائے گی۔ ان مجرموں کو بلقیس بانو کے خاندان کے سات افراد کے اجتماعی عصمت دری اور قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Hyderabad | Lucknow | Delhi | Gujarat
    • Share this:
      Bilkis Bano Case: سپریم کورٹ میں 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کے مجرم 11 افراد کی رہائی کو چیلنج کرنے والی تین درخواستوں پر آج یعنی جمعرات کو سماعت کی جائے گی۔ ان مجرموں کو بلقیس بانو کے خاندان کے سات افراد کے اجتماعی عصمت دری اور قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ سب پیر کے روز گودھرا سب جیل سے رہا کیے گئے ہیں۔

      پنچ محل کے کلکٹر سوجل مایاترا جو پینل کی سربراہی کر رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ان تمام افراد نے 15 سال سے زیادہ عرصہ جیل میں گزارا تھا جس کے بعد ان میں سے ایک مجرم نے اپنی قبل از وقت رہائی کی درخواست کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس کی سزا کی معافی کے معاملے پر غور کرے جس کے بعد حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی۔

      سوجل مایاترا نے کہا کہ کچھ مہینے پہلے تشکیل دی گئی ایک کمیٹی نے اس کیس کے تمام 11 مجرموں کی سزا معاف کرنے کے حق میں متفقہ فیصلہ لیا تھا۔ یہ سفارش ریاستی حکومت کو بھیجی گئی تھی اور ہمیں ان کی رہائی کے احکامات موصول ہوئے۔

      گجرات حکومت نے اپنی معافی کی پالیسی کے تحت ان کی رہائی کی اجازت دے دی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔ ممبئی میں مرکزی تفتیشی بیورو (Central Bureau of Investigation) کی ایک خصوصی عدالت نے 21 جنوری 2008 کو 11 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں بمبئی ہائی کورٹ (Bombay High Court) نے ان کی سزا کو برقرار رکھا۔

      بلقیس بانو کون ہے؟

      یہ بھی پڑھیں:

      Hyderabad : ٹی راجا سنگھ کے خلاف احتجاج جاری ، درجنوں مظاہرین کو کیا گیا گرفتار


      اس واقعہ پر برہمی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے سی بی آئی جانچ کا حکم دیا۔ اس کیس کے ملزمان کو 2004 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مقدمے کی سماعت احمد آباد میں شروع ہوئی۔ تاہم جب بلقیس بانو نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ گواہوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور سی بی آئی کے ذریعہ جمع کیے گئے شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی، تو سپریم کورٹ نے اگست 2004 میں کیس کو ممبئی منتقل کر دیا۔

       


      یہ بھی پڑھیں:

      Prophet Muhammad: راجہ سنگھ کے خلاف مزید 2 مقدمات درج، دوبارہ گرفتاری کا امکان

      27 فروری 2002 کو سابرمتی ایکسپریس کی ایک کوچ کو جلانے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا جس میں 59 'کارسیوک' مارے گئے۔ اسی دوران بلقیس بانو اپنی چھوٹی بیٹی اور دیگر 15 افراد کے ساتھ اپنے گاؤں سے بھاگ گئیں، جو اس وقت پانچ ماہ کی حاملہ تھیں۔ 3 مارچ کو انہوں نے ایک کھیت میں پناہ لی جب درانتیوں، تلواروں اور لاٹھیوں سے لیس 20 تا 30 لوگوں کے ہجوم نے ان پر حملہ کیا۔ بانو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس کے خاندان کے سات افراد کو قتل کر دیا گیا۔ چھ دیگر ارکان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: