ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

سینسر بورڈ کو ہائی کورٹ کا حکم، صرف ایک کٹ کے ساتھ فلم اڑتا پنجاب کو پاس کیا جائے

ممبئی : انوراگ کشیپ کی فلم اڑتا پنجاب کو لے کر ہائی کورٹ نے سینسر بورڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلے 48 گھنٹے میں محض ایک کٹ کے ساتھ فلم کو اے سرٹیفکیٹ دے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Jun 13, 2016 06:01 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سینسر بورڈ کو ہائی کورٹ کا حکم، صرف ایک کٹ کے ساتھ فلم اڑتا پنجاب کو پاس کیا جائے
ممبئی : انوراگ کشیپ کی فلم اڑتا پنجاب کو لے کر ہائی کورٹ نے سینسر بورڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلے 48 گھنٹے میں محض ایک کٹ کے ساتھ فلم کو اے سرٹیفکیٹ دے۔

ممبئی : انوراگ کشیپ کی فلم اڑتا پنجاب کو لے کر ہائی کورٹ نے سینسر بورڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلے 48 گھنٹے میں محض ایک کٹ کے ساتھ فلم کو اے سرٹیفکیٹ دے۔ سینسر بورڈ نے فلم میں 13 کٹ کی تجویز پیش کی تھی ، لیکن ہائی کورٹ نے بورڈ کے 12 اعتراضات کو خارج کرتے ہوئے محض ایک کٹ کو صحیح تسلیم کیا اور اس کے ساتھ فلم کو ہری جھنڈی دکھانے کا سینسر بورڈ کو حکم دیا۔

سینسر بورڈ کا کہنا تھا فلم میں سے پنجاب کا لفظ ہٹا دیا جائے۔ فلم میں ایم ایل اے، پارٹی ورکر اور پنجاب کے شہروں کے نام وغیرہ پر بھی بورڈ کو اعتراض تھا ، لیکن ہائی کورٹ میں اس کی ایک نہیں سنی گئی ۔ کورٹ نے کہا کہ سینسر بورڈ کو قانون کے حساب سے فلموں کو سنسر کرنے کا حق ہی نہیں ہے کیونکہ سینسر لفظ سنیمیٹو گرافی ایکٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

کورٹ نے کہا کہ ہمیں فلم میں ایسا کچھ نہیں دیکھنے کو ملا ، جس کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ فلم میں پنجاب کو غلط دکھایا گیا ہے یا فلم میں ہندوستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا ہے یا پھر منشیات کی تشہیر کی گئی ہے۔ عدالت نے جس ایک سین کو ہٹانے کا حکم دیا ہے ، وہ کھلے میں پیشاب کرنے کا ہے اور جسے درخواست گزار پہلے ہی ہٹانے کے لئے تیار تھے۔

فلم کے ڈائریکٹر ابھیشیک چوبے نے کہا کہ فیصلے سے میں بہت مطمئن ہوں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم فلم 17 جون کو ہی ریلیز کریں ۔ بالی ووڈ کی کئی معروف شخصیات نے اڑتا پنجاب کو لے کر ہائی کورٹ کے فیصلے کو تاریخی اور مستقبل میں فلموں کو سینسر بورڈ سے راحت کی راہ کھولنے والا بتایا ہے۔

First published: Jun 13, 2016 06:01 PM IST