உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھیانک سڑک حادثہ: بس اور ٹرک میں زبردست ٹکر کے بعد لگی آگ، 8 مسافر زندہ جلے، پھیلی دہشت

    Youtube Video

    Big Accident in Barmer: معلومات کے مطابق، حادثہ باڑمیر ضلع کے پچپدرا تھانہ علاقے کے بھنڈیا واس گاؤں کے قریب صبح تقریباً 11.30 بجے پیش آیا۔ یہاں بس اور ٹرک کے درمیان زبردست ٹکر ہو گئی۔ حادثے کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔

    • Share this:
      باڑمیر۔ مغربی راجستھان کے باڑمیرضلع کے پچپدرا علاقے میں آج ایک بڑا حادثہ (road accident) پیش آیا۔ یہاں بس اور ٹرک کے درمیان زبردست ٹکر ہو گئی۔ باڑمیر۔جودھپور ہائی وے پر اس ٹکر کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ آگ لگنے سے بس میں سوار 8 مسافر زندہ جل گئے۔ ان میں سے تین مسافروں کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ جھلسے ہوئے ایک مسافر نے اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ دیا اور ایک اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑ گیا۔ حادثے میں تقریبا ڈیڑھ درجن سے زائد مسافر جھلس گئے۔ کی

      حادثے کے بعد راستہ کو جام ہو گیا ہے۔ تقریباً آدھے گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلع کلکٹر لوک بندھو اور پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپک بھارگاو موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ بس میں تقریباً 25 مسافر سوار بتائے جارہے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس ان کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

      بس میں 25 مسافرتھے سوار
      معلومات کے مطابق، حادثہ باڑمیر ضلع کے پچپدرا تھانہ علاقے کے بھنڈیا واس گاؤں کے قریب صبح تقریباً 11.30 بجے پیش آیا۔ یہاں بس اور ٹرک کے درمیان زبردست ٹکر ہو گئی۔ حادثے کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ حادثے کے وقت بس میں 25 مسافر سوار تھے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پچپدرا پولیس موقع پر پہنچ گئی اور فائر بریگئیڈ کو بلاک کرکے آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کردیں۔ حادثے کے بعد سڑک پر طویل جام لگ گیا۔ دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

      بھنڈیاواس کے قریب ہوا حادثہ
      پچپدرا پولیس اسٹیشن کے افسر پردیپ ڈھاگا کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اب بس میں پھنسے مسافروں کو ریسکیو کر کے نکالا جا رہا ہے۔ بس بلوترا سے جودھپور جا رہی تھی۔ اس دوران بھنڈیاواس کے قریب سامنے سے آنے والے ایک ٹرک نے اوور ٹیک کرنے کی کوشش میں بس کو ٹکر مار دی، جس سے یہ بھیانک حادثہ پیش آیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: