உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سی جے آئی نے سپریم کورٹ کے دو افسروں کو کیا برخاست، انل امبانی سے منسلک معاملہ کے آرڈر سے کی تھی چھیڑ چھاڑ

    انل امبانی بدھ کے روز سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔

    انل امبانی بدھ کے روز سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔

    سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر 7 جنوری کو جو آرڈر اپ لوڈ کیا گیا اس میں لکھا ہے کہ مبینہ ملزم کی ذاتی طور پر حاضری لازمی نہیں ہے

    • Share this:
      عدالت کی توہین کو لے کر ریلائنس کمیونکیشنز کے چئیرمین انل امبانی پر سپریم کورٹ کے ایک آرڈر سے چھیڑ چھاڑ میں ملوث دو افسران کو چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے برخاست کر دیا ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا تھا کہ سپریم کورٹ کے دو معاون رجسٹراروں نے آرڈر کی کاپی سے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ سی جے آئی نے بدھ کو دونوں حکام کو برخاست کرنے کا حکم جاری کیا۔

      اس معاملہ کی شکایت جسٹس روہنگٹن ایف نریمن نے کی تھی۔ وہ انل امبانی کے خلاف ہتک عزت کے معاملہ کی سماعت کر رہے تھے۔ جسٹس نریمن نے شکایت کی تھی کہ حکام نے ان کے بیان کو شامل کئے بغیر آرڈر کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا۔ معاملہ کی جانچ میں دونوں افسران قصوروار پائے گئے۔

      آئین کے آرٹیکل 311 اور دفعہ 11(13) کے تحت سی جے آئی کے پاس خصوصی اختیار ہوتا ہے کہ وہ مخصوص حالات میں کسی بھی ملازم کو بغیر کسی تادیبی کارروائی کے برخاست کر سکتے ہیں۔ اس اختیار کا استعمال کرتے ہوئے سی جے آئی نے دونوں افسران کو برخاست کر دیا۔

      سپریم کورٹ میں انڈرٹیکنگ دینے کے بعد بھی انل امبانی نے ایریکسن انڈیا کا قرض ادا نہیں کیا تھا۔ اس معاملے میں عدالت نے انہیں ہتک عزت کا نوٹس بھیجا تھا۔

      سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر 7 جنوری کو جو آرڈر اپ لوڈ کیا گیا اس میں لکھا ہے کہ مبینہ ملزم کی ذاتی طور پر حاضری لازمی نہیں ہے۔ جبکہ قانون یہ ہے کہ جس بھی شخص کے خلاف عدالت ہتک عزت کا نوٹس بھیجتی ہے اسے ایک بار عدالت میں پیش ہو کر بعد کی تاریخوں میں پیشی نہیں ہونے کے لئے اجازت لینا ہوتی ہے۔ جسٹس نریمن نے یہ واضح کیا تھا کہ امبانی کی حاضری لازمی ہے۔

       
      First published: