உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بچوں کا قومی بہادری ایوارڈ یافتہ ناندیڑ کا اعجاز نداف کھیتوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ، جانئے کیوں

    بچوں کا قومی بہادری ایوارڈ یافتہ ناندیڑ کا اعجاز نداف کھیتوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ، جانئے کیوں

    بچوں کا قومی بہادری ایوارڈ یافتہ ناندیڑ کا اعجاز نداف کھیتوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ، جانئے کیوں

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کے والدین کو شدید معاشی تنگی کے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ایسے میں والدین کے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لئے اعجاز نداف نے تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرنے کا فیصلہ کیا اور اس طرح سے وہ اپنے گاؤں کے کھیتوں میں مزدوری کا کام کررہاہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    ناندیڑ : ناندیڑ شہر سے 20 کلومیٹری کی دوری پر واقع پارڈی نامی گاؤں کا رہنے والا اعجاز نداف وہی ہونہار طالب علم ہے ، جس کو 26 جنوری 2018 کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھوں بچوں کو بہادری کیلئے قومی سطح پر دئے جانے والے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا ۔ اعجاز نداف نے اپنی جان کی پروا کئے بغر تین لڑکیوں کو اس وقت بچانے کی کوشش کی ، جب وہ گاؤں کی ندی میں آئے سلاوب میں بہہ رہی تھیں ۔ان میں دو لڑکیوں کی جانیں بچ گئیں جبکہ ایک لڑکی کی موت ہوگئی تھی ۔ اگر اعجاز نداف اس وقت مدد کےلئے ہاتھ نہں بڑھاتا ، تو شاید وہ دونوں لڑکیاں بھی فوت ہوجاتیں ۔ اعجاز نداف کو اسی بہادری کیلئے قومی سطح کے ایوارڈ کے لئے منتخب کیا گیا ۔

    اعجاز نداف نے دسویں میں 70 فیصد نمبرات سے کامیابی حاصل کی ۔ ایس ایس سی پاس کرنے کے بعد اس نے ناندیڑ کے سائنس کالج میں گیارہویں جماعت میں داخلہ لیا ۔اس کی خواہش تھی کہ اپنے گاؤں سے نکل کر شہر میں ہوسٹل میں رہ کر دل لگاکر پڑھائی کرے ، لیکن معاشی تنگی اور تعلیم پر ہونے والے خرچ کے لئے پیسے نہیں ہونے سے اس نے بارہویں کا امتحان تک نہیں دیا ۔ اس کے بعد اس نے سائنس کالج سے ٹی سی نکال کر اپنے گاؤں کے پڑوس میں واقع ڈونکر کڑا نامی گاؤں میں بارہویں آرٹس میں داخلہ لیا ۔

    بہادری کیلئے بچوں کو قومی سطح پردئے جانے والے بہادری ایوارڈ پانے والا ناندیڑ کا ہونہار طالب علم اعجاز نداف معاشی بدحالی کی وجہ سے ان دنوں کھیتوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہے ۔
    بہادری کیلئے بچوں کو قومی سطح پردئے جانے والے بہادری ایوارڈ پانے والا ناندیڑ کا ہونہار طالب علم اعجاز نداف معاشی بدحالی کی وجہ سے ان دنوں کھیتوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہے ۔


    تاہم جب سے لاک ڈاؤن ہوا ہے ، اس کے والدین کو شدید معاشی تنگی کے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ایسے میں والدین کے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لئے اعجاز نداف نے تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرنے کا فیصلہ کیا اور اس طرح سے وہ اپنے گاؤں کے کھیتوں میں مزدوری کا کام کررہاہے ۔ اعجاز نے اپنے گھریلو حالات کے بارے میں کہا کہ ہماری معاشی حالت اس قابل نہیں ہے کہ میں گاؤں سے شہر جاکر پڑھائی کرسکوں ۔ بڑی مشکل سے میں نے ایک سال ناندیڑ شہر میں رہ کر پڑھائی کی ۔

    اعجاز نداف کے والد عبدالرؤف نداف کا کہنا ہے کہ مجھے آج بہت برا لگ رہاہے کہ اس طرح سے میرا بچہ محنت مزدوری کررہاہے ۔ لیکن گھر کے معاشی حالات بھی ایسے نہیں ہیں کہ اس کو کام پر جانے روک دیا جائے ۔ واضح رہے کہ اعجاز نداف کو جس وقت قومی سطح کا ایوارڈ دیا گا تھا تو اس کے اعزاز مں ناندیڑ میں کئی پروگرام کئے گئے تھے ۔ مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے قائدین نے اس کو اعلی تعلیم دلانے کے لئے ہر طرح کی مدد کا اعلان کیا تھا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: