ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹرمیں نئے اتحاد میں کڑواہٹ، شہریت ترمیمی بل پر شیو سینا کی حمایت سے کانگریس ناراض

لوک سبھا میں پیرکوشیوسینا کے بل کی حمایت سے کانگریس ناراض ہے۔ کانگریس کے سینئررکن بالا صاحب تھوراٹ نے نیوز18 سےکہا کہ شیوسینا کو آئین اورمہا وکاس اگھاڑی کےکم ازکم مشترکہ پروگرام کے مطابق برتاؤکرنا چاہئے۔

  • Share this:
مہاراشٹرمیں نئے اتحاد میں کڑواہٹ، شہریت ترمیمی بل پر شیو سینا کی حمایت سے کانگریس ناراض
کانگریس صدرسونیا گاندھی اورشیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: مہاراشٹرمیں نوتشکیل شدہ شیوسینا- کانگریس  اتحاد میں شہریت ترمیمی بل 2019 کولےکردرارپڑتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ بتایا جارہا ہےکہ لوک سبھا میں پیرکوشیوسینا کے بل کی حمایت سے کانگریس ناراض ہے۔ کانگریس کے سینئررکن بالا صاحب تھوراٹ نے نیوز 18 سےکہا کہ شیوسینا کوآئین اورمہا وکاس اگھاڑی کےکم ازکم مشترکہ پروگرام کے مطابق برتاؤکرنا چاہئے۔ واضح رہےکہ لوک سبھا میں پیرکوبل 80 کے مقابلے 311 ووٹوں سے منظورہوگیا۔ آج راجیہ سبھا میں یہ بل پیش کیا جاچکا ہےاوراس پربحث جاری ہے۔


شیوسینا کو اتحادی جماعتوں کواعتماد میں لینا چاہئے تھا


کانگریس لیڈراورسابق ریاستی وزیرعارف نسیم خان نےکہا کہ شیوسینا کوبل کی حمایت کرنے سے پہلے اپنےاتحادی جماعتوں کواعتماد میں لےلینا چاہئےتھا۔ شیو سینا کا یہ قدم غیر اخلاقی، غیرآئینی اورکم ازکم مشترکہ پرگرام کے خلاف ہے۔ مہاراشٹرکے وزیراعلیٰ عہدے کےلئے بی جے پی سے الگ ہوئی شیوسینا نےلوک سبھا میں پیرکوشہریت ترمیمی بل 2019 کی حمایت کی تھی۔ یہ بل پاکستان، بنگلہ دیش اورافغانستان کےغیرمسلم پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کی چھوٹ دیتا ہے۔ حالانکہ اس بل میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔




شہریت ترمیمی بل کوئز میں حصہ لیں ۔


لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل ( سی اے بی ) پیر کو منظور ہوگیا ۔ اس کوئز میں حصہ لے کر اس متنازع بل کے بارے میں اپنی معلومات کا اندازہ لگائیں ۔




شہریت ترمیمی بل کے تحت تبت کے پناہ گزینوں کوملے گی شہریت ؟






 کیا، احمدیہ پناہ گزینوں جوپاکستان میں مذہبی ظلم و ستم کا شکارہوکربھاگ کرآئے انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت ملے گی؟







کیا، بنگلہ دیش ہندومہاجرجو 2015 میں غیرقانونی طورپرہندوستان میں داخل ہوا ہے اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟





بنگلہ دیش کے ایک بدھسٹ مہاجرجن کا نام آسام کے نیشنل رجسٹرآف سیٹیزنس سے نکال دیاگیاہے اور اس کے خلاف فارین ٹرابیونل میں کیس زیرالتواء ہے تو کیا اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟




میگھالیہ آئین کے چھٹویں شیڈول کے تحت آتاہے اور یہ شہریت ترمیمی بل کے حدود سے باہر ہے تو کیا شیلانگ کے پولیس بازار میں رہنے والے ہندوبنگلہ دیش مہاجر،شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کےلیے درخواست داخل کرسکتاہے؟





کیا تریپورہ میں قیام پذیر بنگالی ہندو مہاجرین کو شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل سکتی ہے ؟





ہندوستان منتقل ہونے والے ہندو، سکھ، بدھیسٹ، جین، پارسی اور عیسائی مہاجرین جوپاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش میں مذہبی ظلم وستم شکار ہوئے ہیں، انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت خود بخود شہریت مل جائیگی ؟




کوئی بھی ہندو مہاجر شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کا دعویٰ کرسکتاہے؟






بنگلہ دیش کے چکما، ہاجنگ کے پناہ گزین جو اروناچل پریش میں قیام پذیز ہیں اور انہیں اب تک شہریت نہیں ملی ہے تو کیا انہیں شہریت ترمیم بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟






کیا سری لنگا سے آنے والے ہندو تامل مہاجرین شہریت ترمیم بل کے تحت ہندوستانی شہریت حاصل کرسکتے ہیں؟





آسامی میں بات کرنے والے ہندو، جو جوہرہاٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں مناسب دستاویزات کی عدم موجودگی کے سبب نیشنل رجسٹرآف سیٹزنس میں شامل نہیں کیاگیاہے؟ کیا وہ شہریت ترمیمی بل کے شہریت کے لیے درخواست داخل کرسکتے ہیں؟








 

 

 

 

 


حکومت کوبل پرہمارے کا جواب دینا ہی ہوگا

لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل کی حمایت کرنے والی شیوسینا نےبعد میں مودی حکومت کی نیت پرسوال بھی اٹھایا۔  شیو سینا سربراہ اورمہاراشٹرکے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نےکہا، 'ہم شہریت ترمیمی بل پرآگے تب تک حکومت کی حمایت نہیں کریں گے، جب تک ہمارے سوالوں کے جواب نہیں مل جاتے'۔ ادھو ٹھاکرے نےکہا 'جوکوئی متفق نہیں ہوتا ہے، وہ ملک مخالف ہوتا ہے، یہ ان کا ( بی جے پی ) وہم ہےکہ صرف بی جے پی کوہی ملک کی پرواہ ہے۔ ہم نے راجیہ سبھا میں شہریت ترمیمی بل میں کچھ تبدیلی کا مشورہ دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ راجیہ سبھا میں اسےسنجیدگی سےلیا جائے'۔ ادھو ٹھاکرے نےکہا 'حکومت کویہ واضح کرنا چاہئے کہ یہ پناہ گزیں کہاں رہیں گے؟ کس ریاست میں رہیں گے'؟

سنجے راؤت نےکہا - ہم پرکوئی دباؤ نہیں بنا سکتا

شیوسینا لیڈرسنجے راؤٹ نے واضح طورپرکہا کہ ہمارا یہ رخ کانگریس کے دباؤمیں نہیں ہے۔ ہمارے اوپرکوئی بھی پارٹی دباؤنہیں بناسکتی ہے۔ ہمارے دل میں جوہے وہی ہماری زبان پربھی ہے۔ انہوں نےکہا کہ شہریت ترمیمی بل سےاٹھے سوال سیاسی نہ ہوکرانسانی ہیں۔ آپ پاکستان، بنگلہ دیش اورافغانستان کی بات توکررہے ہیں، لیکن سری لنکائی تملوں کو نظر اندازکررہے ہیں۔ نیپال میں چین اورپاکستان کی طرف سے دراندازی کے سبب ہندوؤں کی حالت بہت خراب ہے، یہاں تک کہ نیپال کے ہندویہ بھی نہیں کہہ سکتےکہ وہ ہندوہیں۔ اس لئے یہ سیاست کا نہیں انسانیت کا سوال ہے۔ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔
First published: Dec 11, 2019 04:57 PM IST