ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹر اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکمراں محاذ میں تصادم

ممبئی مہاراشٹر اسمبلی کے دوسرے روز سرمائی اجلاس میں اسوقت اپوزیشن اور حکمراں محاذ میں شور شرابہ اور تصادم ہوا جب بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر خزانہ سدھیر منگٹیوار اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار کے مابین لفظی جنگ موضوع بحث بن گئی۔

  • Share this:
مہاراشٹر اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکمراں محاذ میں تصادم
مہاراشٹر اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکمراں محاذ میں تصادم

ممبئی۔ مہاراشٹر اسمبلی میں آج متعدد مسائل اور موضوعات کو لے کر اپوزیشن اور حکمراں محاذ آمنے سامنے آگئے۔ مراٹھا اور او بی سی برادریوں کے مسائل کو لے کر اپوزیشن نے اپنے تیور سخت کر لئے تھے اور سرکار کو گھیرنے کی تیاری بھی کی تھی جس کا اندازہ ایوان کی کارروائی کے ابتداء سے ہی ہوگیا تھا۔ آج ایوان کا آخری دن تھا اس لئے اپوزیشن نے ہر سطح پر سرکار کو گھیرنے کیلئے ایوان میں ہنگامہ بھی کیا۔ اسی وجہ سے ایوان کی کارروائی کے دوران کئی لیڈران میں نوک جھونک بھی ہوئی ہے۔


ممبئی مہاراشٹر اسمبلی کے دوسرے روز سرمائی اجلاس میں اسوقت اپوزیشن اور حکمراں محاذ میں شور شرابہ اور تصادم ہوا جب بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر خزانہ سدھیر منگٹیوار اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار کے مابین لفظی جنگ موضوع بحث بن گئی۔ ضمنی مطالبات پر ایوان میں سدھیر منگٹیوار نے کہا کہ اگر میری تقریر کے دوران کوئی رکاؤٹ یا رخنہ اندازی کرتا ہے تو وہ شکست خوردہ ہوگا۔ اس پر اجیت پوار نے سدھیر منگٹیوار کو چیلنج کیا کہ مجھے شکست فاش کر کے دکھاؤ۔ اس کے بعد سدھیر منگٹیوار نے کہا کہ جولائی ماہ میں ادھوٹھاکرے، اجیت پوار، دیویندر فڑنویس کی سالگرہ ہے ان کے مقدر میں ہے کہ وہ والدین کے نظریات کو آگے لے کر جائیں گے۔ آج میرے سامنے بال ٹھاکرے مجھے نظر آرہے ہیں اس قسم کی تنقید بھی کی ہے۔ ایوان اسمبلی میں 21 ہزار99 کروڑ روپئے کے ضمنی مطالبات میں مہاراشٹر ایوان اسمبلی میں آج مراٹھا اور پسماندہ طبقات اور مراٹھوں کی ناراضگی کو دور کر نے کیلئے مہا وکاس اگھاڑی نے مراٹھا اور پسماندہ طبقات کی بھی شمولیت کی ہے۔ 21 ہزار 99 کروڑ روپئے کے ضمنی مطالبات میں سے سرکار نے اوبی سی سماج  مہا جیوتی تنظیم کے لئے 81 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔


مہا جیوتی تنظیم نے کئی دنوں سے پیسوں کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ اوبی سی کے طلباء کے لئے 11 کروڑ روپئے مختص کر نے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مراٹھا ریزرویشن کو لے کر مشتعل مراٹھا سماج کیلئے 80 کروڑ روپئے بھی اس اضافی مطالبات میں شامل کیا گیا ہے۔ سارتھی سنستھا کو فنڈ فراہم کیا جائے اس کیلئے بھی آندولن ہوچکا ہے جبکہ اندو مل کے لئے بھی 100 کروڑ روپئے کا فنڈ مختص کیا گیاہے۔


ضمنی مطالبات میں کچھ اہم پروجیکٹ سمیت اہم تنظیموں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ فصل کے نقصان کی وجہ سے کاشت کاروں کیلئے 2211کروڑ روپئے, زراعت کی پیداوار کیلئے بونس فراہم کیلئے 2850 کروڑ, کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے ممبئی اور ناگپور میں سینٹر اور دیگر مراعات کیلئے 22 کروڑ روپئے عامدار نواس بند ہونے کی وجہ سے عامدار نواس کے انتظامات کیلئے 8کروڑ روپئے, عامدار وکاس فنڈ 476 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 15, 2020 07:15 PM IST