ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

پہلو خان قتل معاملہ: ملزمین کو کلین چٹ دئیے جانے پر اٹھے سوال، ہائی کورٹ جانے کی تیاری

تحریری بیان میں پہلو خان نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کے ساتھ جب مار پیٹ کی گئی تو سدھیر یادو، حکم چند یادو، اوم یادو، نوین شرما، راہل سینی اور جگمال سنگھ آپس میں ایک دوسرے کا نام لے رہے تھے اور اپنے آپ کو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنان بتا رہے تھے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پہلو خان قتل معاملہ: ملزمین کو کلین چٹ دئیے جانے پر اٹھے سوال، ہائی کورٹ جانے کی تیاری
تحریری بیان میں پہلو خان نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کے ساتھ جب مار پیٹ کی گئی تو سدھیر یادو، حکم چند یادو، اوم یادو، نوین شرما، راہل سینی اور جگمال سنگھ آپس میں ایک دوسرے کا نام لے رہے تھے اور اپنے آپ کو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنان بتا رہے تھے۔

الور۔ راجستھان کے ضلع الور کے بہروڑ میں گزشتہ تین اپریل کو گئو رکشکوں کے ذریعہ پہلو خان کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دئیے جانے کے معاملہ میں سی بی سی آئی ڈی نے جانچ میں چھ نامزد ملزمین کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے جانچ رپورٹ پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ میو سماج نے جانچ رپورٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں جانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔


مہلوک پہلو خان کے تحریری بیان کی بنیاد پر بہروڑ پولیس کے ذریعہ ہندو تنظیموں سے وابستہ چھ افراد کے خلاف نامزد رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے نامزد تمام چھ ملزمین پر پانچ۔ پانچ ہزار کے انعام کا اعلان کیا تھا۔


تحریری بیان میں پہلو خان نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کے ساتھ جب مار پیٹ کی گئی تو سدھیر یادو، حکم چند یادو، اوم یادو، نوین شرما، راہل سینی اور جگمال سنگھ آپس میں ایک دوسرے کا نام لے رہے تھے اور اپنے آپ کو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنان بتا رہے تھے۔


پٹائی کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ بہروڑ میں ہو کر جو گائے لے کر جائے گا اس کا یہی حال ہو گا۔ نامزد ملزمین کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا تھا۔ اب انہیں کلین چٹ دینے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

 
First published: Sep 14, 2017 02:49 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading