اپنا ضلع منتخب کریں۔

    تین طلاق پرمودی حکومت کا آرڈیننس شریعت میں راست مداخلت: عارف نسیم خان

    کانگریس لیڈر محمد عارف نسیم خان: فائل فوٹو۔

    کانگریس لیڈر محمد عارف نسیم خان: فائل فوٹو۔

    کانگریس لیڈرنے آرڈیننس کو مودی حکومت کی مسلمانوں کے تئیں دوہری پالیسی اورآرایس ایس کی پالیسی پرعمل آوری قراردیا

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی:  تین طلاق کے خلاف مودی حکومت کے ذریعے مرکزی کابینہ میں آرڈیننس لانے کے فیصلے نے جہاں پورے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ وہیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدراورسابق ریاستی اقلیتی امورکے وزیرمحمد عارف نسیم خان نے اسے مودی حکومت کی مسلمانوں کے تئیں دوہری پالیسی اورآرایس ایس کی پالیسی پرعمل آوری قراردیا ہے۔
      میڈیا کے لئے جاری اپنے بیان میں نسیم خان نے کہا کہ مودی کابینہ نے تین طلاق کے خلاف آرڈیننس لانے کا جوفیصلہ کیا ہے، میں اس کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ یہ نہ صرف عدالتی توہین ہے، بلکہ شریعت میں راست مداخلت ہے، اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔


      انہوں نے مودی حکومت سے سوال کیا ہے کہ جب یہ معاملہ راجیہ سبھا میں زیرغور تھا، تو پھرانہیں اتنی جلدی کیوں ہے؟ انہوں نے اپنی کابینہ میں اس پر آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں مودی حکومت کے رول سے صاف واضح ہورہا ہے کہ وہ آرایس ایس کی پالیسی کے مطابق کام کررہی ہے اورملک کے مسلمانوں کے ساتھ جانبداری برت رہی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:    تین طلاق دینے پر اب ہو گی سزا، مرکزی کابینہ نے آرڈیننس کو دی منظوری
      نسیم خان نے کہا کہ مودی حکومت نے مسلم خواتین کی ہمدردی کے نام ایک جانب سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ اس سے مسلم خواتین کو فائدہ ہوگا جبکہ دوسری جانب وہ اس کے ذریعے مسلمانوں کوہراساں وپریشان کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہ ملک بھر کی کروڑہا مسلم خواتین نے پورے ملک میں احتجاج کرکے مودی حکومت کو تین طلاق کے بہانے شریعت میں مداخلت سے بازرکھنے کا مطالبہ کیا لیکن مودی جی کو ان کروڑا خواتین کی اواز نہیں سنائی دی، البتہ ان چند نام نہاد مسلم خواتین کی آواز ضرور سن لی جوتین طلاق کے خلاف عدالت سے رجوع ہوئی ہیں۔
      نسیم خان نے مودی حکومت سے سوال کیا کہ جب آپ ہر کسی کے ساتھ انصاف کی بات کرتے ہیں تو پھر ملک کے ہندووں ومسلمانوں کے معاملے میں اس قدر بھید بھاؤ کیوں کررہے ہیں کہ اگر کوئی ہندو زیادتی کرتا ہے تو اس پر سول کیس اور اگر کوئی مسلمان اس کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پرکریمنل کیس؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟


      یہ بھی پڑھیں:   تین طلاق کو ’سیاسی فٹبال ‘بنارہی ہے مودی حکومت :کانگریس

      مودی حکومت نے اس آرڈیننس کے ذریعے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔ یہ صرف فرقہ پرستی کی بنیاد پر ہورہا ہے تاکہ آئندہ انتخابات میں ووٹوں کا پولرائزیشن ہوسکے۔ نسیم خان نے مودی حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طورپر اپنے آرڈیننس جاری کرنے کے کابینی کو فیصلے واپس لیں۔کیونکہ یہ شریعت مطہرہ راست مداخلت ہے جسے ہم کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔

      یہ بھی پڑھیں:    بلند شہر : حلالہ کے خلاف آواز اٹھانے والی تین طلاق متاثرہ مسلم خاتون پر تیزاب حملہ ، حالت سنگین

       

      واضح رہے کہ بی جے پی نے پارلیمانی اجلاس ختم ہونے کے بعد اپنے ایک پریس کانفرنس میں واضح طور سے کہا تھا کہ تین طلاق بل کے حوالے سے پارٹی کوئی آرڈیننس لانے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ دسمبر میں موسم سرما کے اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران روی شنکر پرساد اوراننت کما رنے امید ظاہر کی تھی کہ موسم گرما کے اجلاس میں تین طلاق بل پاس ہوجائے گا۔

       انہوں نے مزید کہا تھا کہ حکومت اس معاملے میں آرڈیننس لانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اقلیتی امورکے مرکزی وزیرمختارعباس نقوی بھی کئی بار قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز تین طلاق بل معاملے پرآرڈیننس لانے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:    طلاق کے معاملہ میں سلفی مسلک سب سے درست، پرسنل لا بورڈ اہلحدیثوں سے رجوع کرے: مولانا وحیدالدین خان

      یہ بھی پڑھیں:    من کی بات پروگرام میں وزیر اعظم مودی نے کہا : مسلم خواتین کے ساتھ انصاف کرے گا ملک

       

       
      First published: