உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گجرات : طویل عرصہ کے بعد وقف بورڈ میں  10 اراکین کی تقرری ، تنازع شروع

    طویل عرصہ کے بعد گجرات حکومت نے وقف بورڈ میں  10 اراکین کی تقرری کی ہے ۔ مگر یہ تقرریاں اب تنازع کا شکار ہوگئی ہیں ۔

    طویل عرصہ کے بعد گجرات حکومت نے وقف بورڈ میں 10 اراکین کی تقرری کی ہے ۔ مگر یہ تقرریاں اب تنازع کا شکار ہوگئی ہیں ۔

    طویل عرصہ کے بعد گجرات حکومت نے وقف بورڈ میں 10 اراکین کی تقرری کی ہے ۔ مگر یہ تقرریاں اب تنازع کا شکار ہوگئی ہیں ۔

    • Share this:
      احمد آباد : طویل عرصہ کے بعد گجرات حکومت نے وقف بورڈ میں  10 اراکین کی تقرری کی ہے ۔ مگر یہ تقرریاں اب تنازع کا شکار ہوگئی ہیں ۔ نئے اراکین کی تقرری کو لے کر سیو وقف پروپرٹي نامی تنظیم نے جلد ہی گجرات ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے ۔ دراصل 2016 میں ہی گجرات وقف بورڈ کے باڈی میں موجود ارکان اور بورڈ کے چیئرمین کی مدت ختم ہو گئی تھی۔ اسی وقت مسلم تنظیم سے وابستہ لوگوں نے اس معاملہ کو لے کر گجرات ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی، جس کے بعد گجرات حکومت نے جلد سے جلد گجرات وقف بورڈ کی نئی باڈی اور نئے چیئرمین کی تقرری کی یقین دہانی کرائی تھی ۔
      طویل عرصہ کے بعد جب نئے وقف بورڈ کے باڈی کی تقرری عمل میں آئی تو پھر سے تنازع شروع ہو گیا ہے ۔ گجرات حکومت 2 اپریل کو نئی وقف باڈی کا اعلان کیا تھا ، جس میں کانگریس کے لیڈر احمد پٹیل کے ساتھ ہی ساتھ وانکہ نیر کے کانگریسی ایم ایل اے جاوید پیرزادہ، سجاد ہیرا، افضل خان پٹھان، عماد بھائی جاٹ، رقیہ غلام حسین والا، بدر الدین ہالانی ، مرزا ساجد حسین، سراج بھائی ماکڑیہ اور اسما خان پٹھان شامل ہیں ۔
      وقف بورڈ کے نئے اراکین کی تقرری کے معاملہ کو لے کر سیو وقف پروپرٹی نامی تنظیم کے رکن اقبال شیخ کا کہنا ہے کہ گجرات حکومت نے گزشتہ باڈی کے زیادہ تر ممبروں کی دوبارہ تقرری کی ہے ، جن پر بدعنوانی کے الزامات لگے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے گجرات حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ وقف ایکٹ کو نظر انداز کر نئے ممبروں کی تقرری کی گئی ہے ، اس لئے جلد ہی اس معاملے کو لے کر گجرات ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی جائے گی۔
      First published: