اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ممبئی: کورونا وائرس کے سبب حکومت کی گائیڈلائن سےقربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت میں مسلمانوں کو دقت

    بکروں کے بازاروں اور منڈی میں عام مسلمانوں کا بکرا خریدنا اب مشکل ہوگیا ہے کیونکہ بکروں کی قیمتیں دیونار بکرا منڈی بند ہونے کی وجہ سے مسلم محلوں اور علاقوں میں سجی بکرا منڈی میں فی کس بکرا 20 ہزار روپئے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ایک کلو 5 سو سے 6 سو روپیہ میں بکرے فروخت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں عام مسلمانوں کا قربانی کرنا دشوار گزار ہوگیا ہے۔

    بکروں کے بازاروں اور منڈی میں عام مسلمانوں کا بکرا خریدنا اب مشکل ہوگیا ہے کیونکہ بکروں کی قیمتیں دیونار بکرا منڈی بند ہونے کی وجہ سے مسلم محلوں اور علاقوں میں سجی بکرا منڈی میں فی کس بکرا 20 ہزار روپئے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ایک کلو 5 سو سے 6 سو روپیہ میں بکرے فروخت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں عام مسلمانوں کا قربانی کرنا دشوار گزار ہوگیا ہے۔

    بکروں کے بازاروں اور منڈی میں عام مسلمانوں کا بکرا خریدنا اب مشکل ہوگیا ہے کیونکہ بکروں کی قیمتیں دیونار بکرا منڈی بند ہونے کی وجہ سے مسلم محلوں اور علاقوں میں سجی بکرا منڈی میں فی کس بکرا 20 ہزار روپئے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ایک کلو 5 سو سے 6 سو روپیہ میں بکرے فروخت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں عام مسلمانوں کا قربانی کرنا دشوار گزار ہوگیا ہے۔

    • Share this:
    ممبئی شہر و مضافات میں بکروں کے بازاروں اور منڈی میں عام مسلمانوں کا بکرا خریدنا اب مشکل ہوگیا ہے کیونکہ بکروں کی قیمتیں دیونار بکرا منڈی بند ہونے کی وجہ سے مسلم محلوں اور علاقوں میں سجی بکرا منڈی میں فی کس بکرا 20 ہزار روپئے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ایک کلو 5 سو سے 6 سو روپیہ میں بکرے فروخت ہو رہے ہیں۔ ایسے میں عام مسلمانوں کا قربانی کرنا دشوار گزار ہوگیا ہے۔ دوسرا قربانی کے جانور کی نقل و حمل میں قلت کی وجہ سے بکروں کا بازاروں میں فقدان ہوگیا ہے۔ اس لئے بیوپاری من مانی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے کئی علاقوں میں تو سفید بکرا,سرخ بکرا اور دیگر رنگوں اور چمڑے والے بکروں کی قیمت علیحدہ طے کی گئی ہے اس کے علاوہ آن لائن سسٹم کے سبب بکروں کی خریداری اب محال ہوگئی ہے کیونکہ آن لائن بکروں کی خریداری میں بھی کئی طرح سے مسلمانوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے یہ شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ بکرا کی تصویر کچھ بھیجی جاتی ہے اور اس کے بعد بکرا دوسرا بھیجا جاتا ہے۔ ایسے میں مسلمان اس بکرے کو واپس بھی نہیں بھیج سکتے اس لئے مسلمانوں کو قربانی کیلئے صحتمند بکرا ملنا اب مشکل ہوگیا ہے گوکہ مسلمانوں کے اس مذہبی فریضہ میں کسی قسم کی رکاؤٹ نہ پیدا ہو اس کا خاص خیال سرکار کو رکھنا چاہئے تھا۔
    سرکار کی واضح گائڈ لائن نہ ہونے کی وجہ سے بکرا منڈیوں میں بکروں کے خریداروں کو نہ صرف من مانے قیمت پر بکرے فروخت کئے جارہے ہیں بلکہ انہیں یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بکروں کا فقدان ہے اور اب یہ بازار میں مزید بکرے نہیں آئیں گے۔ سرکار نے منڈی کو قانونی اجازت نہیں دی ہے لیکن غیر قانونی طریقے سے منڈی ہر مسلم محلے میں جاری ہے۔ ان منڈیوں سے پولیس والوں سے لے کر بی ایم سی کو بھی ہفتہ ملتاہے اس کی ادائیگی عام مسلمان کو کرنا ہوتی ہے کیونکہ اس کا تمام سرمایہ وہ گاہک سے ہی وصول کرے گا۔ اس لئے فی کس بکرا 20ہزار روپئے تک مسلمانوں کو فراہم ہو رہے ہیں اگر یہی حال رہا تو متوسط طبقہ کا مسلمان قربانی سے ہی محروم ہوجائیگا کیونکہ دیونار میں دس ہزار سے بارہ ہزار میں متوسط طبقہ کے مسلمانوں کو بکرا دستیاب ہوجاتا تھا لیکن اب یہ قصہ پارینہ ہوگیا ہے اور ہر طرف بکرا خریداری کے نام پر لوٹ کھسوٹ شروع ہوگئی ہے۔
    پولیس نے بکروں کی نقل و حمل پر اب سختی کچھ حد تک کم کر رہی ہے پولیس نے چیک ناکوں پر سے ٹرکوں اور بکروں کی گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ بھی بند کر دی ہے اس سے قبل روزنامہ راشٹریہ سہارا نے اس متعلق ایک خبرشائع کی تھی جس کا اثر یہ رہا کہ پولیس نے چیک ناکوں پر بکروں اور جانوروں کی گاڑیوں کو بلا روک ٹوک گزرنے کی اجازت دینا شروع کردی ہے اسکے علاوہ پولیس صرف گاڑیوں میں یہ جانچ کرتی ہے کہ کہیں کوئی گاڑی میں گائے یا اس کی نسل لے کر تو نہیں جارہا ہے جس کے ذبیحہ پر ریاستِ مہاراشٹر میں پابندی ایسے میں اب بیوپاریوں کو چیک ناکوں اور شاہراہوں پر روکا نہیں جارہا ہے۔
    پولیس کے ایک اعلی افسر نے اس کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ قربانی کیلئے بکروں کی دستیابی کیلئے اہم شاہراہوں پر مسلمانوں کو رعایت دی گئی ہے لیکن مسلمانوں کو بھی اس کا غلط فائدہ اٹھانے سے گریز کرنا چاہئے اور قربانی کے جانوروں کی نقل و حمل ہی کرنی چاہئے ناکہ اس کی آڑ میں بیل اور اس کی نسل کی جانور کو لانے کی کوشش کی جائے اس لئے پولیس بات کا بھی خیال رکھ رہی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: