உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    زندگی رہتے عاشق جوڑے کو نہیں دی شادی کی اجازت، لڑکی۔لڑکے نے کر لی خودکشی، پھر کنبے نے آخری رسوم میں کرائی شادی

    ۔ گھر والوں کی طرف سے شادی سے انکار کے بعد دونوں نے خودکشی کرلی۔ پھر ان کی موت کے بعد گھر والوں نے ان کی علامتی شادی کروائی اور دونوں کو دنیا سے رخصت کر دیا۔

    ۔ گھر والوں کی طرف سے شادی سے انکار کے بعد دونوں نے خودکشی کرلی۔ پھر ان کی موت کے بعد گھر والوں نے ان کی علامتی شادی کروائی اور دونوں کو دنیا سے رخصت کر دیا۔

    • Share this:
      جلگاؤں/ممبئی۔ مہاراشٹر کے ضلع جلگاؤں کے واڈے گاؤں میں رہنے والے ایک عاشق جوڑے کی شادی کی خواہش زندہ رہتے ہوئے پوری نہیں ہو سکی۔ گھر والوں کی طرف سے شادی سے انکار کے بعد دونوں نے خودکشی کرلی۔ پھر ان کی موت کے بعد  گھر والوں نے ان کی علامتی شادی کروائی اور دونوں کو دنیا سے رخصت کر دیا۔
      ماڈے گاؤں میں رہنے والے 22 سالہ مکیش سونا وانے اور پلاڈ کی رہائشی نیہا ٹھاکرے کے درمیان محبت کا معاملہ چل رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے۔ مکیش اور نیہا شادی کرنا چاہتے تھے اور اپنی زندگی ایک ساتھ گزارنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس کے لیے اپنے گھر والوں سے بات کی  لیکن دونوں کے خاندان ان کی شادی کے لیے راضی نہیں ہوئے جبکہ دونوں کا تعلق ایک ہی برادری سے تھا۔
      جب گھر والوں نے ان کی شادی سے انکار کر دیا تو دونوں نے خودکشی کا فیصلہ کر لیا۔ نیہا اور اس کا خاندان پچھلے کچھ مہینوں سے اپنے رشتہ دار کے گاؤں وڈے میں مقیم تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں کے درمیان محبت کا معاملہ تھا۔ دونوں شادی کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے گھر والوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔
      مکیش نے شادی کے لیے نیہا کے گھر والوں سے بھی بات کی لیکن وہ راضی نہیں ہوئے۔ اس کے بعد مکیش اور نیہا نے اتوار کو گاؤں کے ایک گھر میں ایک ساتھ لٹک کر خودکشی کرلی۔ مرنے سے پہلے مکیش نے واٹس ایپ اسٹیٹس پر بائے لکھ کر الوداعی پیغام بھی دیا تھا۔ تاہم ان دونوں سے کوئی خودکشی نوٹ نہیں ملا ہے۔

      دونوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی لاشوں کو  واڈے گاؤں لے جایا گیا۔ وہاں دونوں کی آخری رسوم ادا کر دی گئیں۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ خاندان کے افراد نے ان دونوں کی علامتی شادی بھی کی جو ان کی آخری خواہش کو پورا کرنے کے لیے کی گئی۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: