ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کچھ اس طرح سے ہو رہی ہیں شادیاں

  • Share this:
لاک ڈاؤن کی وجہ سے کچھ اس طرح سے ہو رہی ہیں شادیاں

ناندیڑ: کورونا وائرس کو پھلنے روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے مختلف پابندیاں لگائی گئی ہے ۔ان میں ایک پابندی شادی تقریب میں محدود افراد کی شرکت سے متعلق ہے ۔ناندیڑ میں ضلع انتظامیہ نے ایک مکتوب کے ذریعہ اس بات کا اعلان کیا کہ شادی کی تقریب میں زیادہ سے زیادہ پچاس لوگ شریک ہوسکتے ہیں ۔اس سے زیادہ افراد کی شرکت کرنے پر متعلقہ افراد کیخلاف کارروائی کی جاسکتی ہے ۔جس کسی کے یہاں شادی کی تقریب ہونے جارہی ہے اس کو چاہئے کہ ایک درخواست دیکر ضلع کلکٹر دفتر سے اجازت حاصل کرے ۔اجازت ملنے پر اپنے علاقہ کے پولیس اسٹیشن کو بھی اس کی جانکاری دے اور پھر اس کے بعد شادی کی تقریب کا انعقاد کیا جائے۔ ان تمام اصولوں کا لحاظ کرتے ہوئے آج ناندیڑ شہر کے پیر نگر میں شادی کی تقریب منعقد کی گئی ۔پی ایس آئی سید جمیل کی دختر کا نکاح ابرار احمد صدیقی کے فرزند فرخان احمد صدیقی کے ساتھ منعقد ہوا ۔لڑکی کے والد سید جمیل صاحب ایک ذمہ دار پولیس افسر ہے اور انہیںبہترین خدمات انجام دینے کے اعتراف میں صدر جمہوریہ کے ہاتھوںاعزاز بھی مل چکا ہے۔

اسی طرح ضلع انتظامیہ کی جانب سے مثالی معلم کے ایوارڈ سے بھی نوازہ جاچکا ہے ۔ خطبہ نکاح مولانا عبدالعظیم رضوی نے پڑھایا ۔نکاح کی بارات جیسے ہی لڑکی والوں کے گھر پہنچی تمام باراتیوں کے ہاتھ سینی ٹائز کئے گئے ۔اسی طرح تمام افراد کو ماسک تقسیم کئے گئے ۔محفل نکاح گھر کی چھت پر منعقد کی گئی ۔محفل میں شریک تمام لوگوں سماجی دوری کا خیال رکھتے ہوئے دور دور بیٹھایا گیا ۔ ایجاب و قبول کی رسم پوری ہونے کے بعد نوشہ کو مبارکباد دینے کیلئے گلے ملنے کا عام رواج ہے لیکن یہاں ایسا نہیں کیا گیا ۔بلکہ فاصلہ پر رہ کر الفاظ کے ذریعہ ہی شادی کی مبارکباد پیش کی گئی۔


تقریب کے اختتام پر لڑکی کے والد سید جمیل نے اپنے تاثرات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی بیٹی کی شادی کو لیکر میں نے بہت کچھ تیاریاں کررکھی تھی ۔میں چاہتا تھا کہ نہایت دھوم دھام سے شادی خانہ میں تقریب منعقد کی جائے تمام رشتہ داروںکو دوست احباب کو شرکت کی دعوت دوں لیکن موجودہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی وجہ سے یہ تمام باتیں نہیں کرسکا ۔اس بات کا جہاں ایک طرف افسوس اور ملال وہیں دوسری طرف اس بات کی خوشی بھی ہے کہ سادگی کے ساتھ شادی کی تقریب کا اہتمام کرنا یہ بھی ایک سنت طریقہ ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق پسندندہ عمل ہے ۔اسلئے میں نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کا لحاظ کرتے ہوئے مختصر سی تعداد میں مہمانوں کو مدعو کیا ۔جو کچھ ہدایتیں دی گئی تھی ان کے مطابق تقریب منعقد کی گئی ۔ہینڈ سینی ٹائزر ،ماسک کا استعمال کیا گیا ۔سماجی دوری کا خیال کرتے ہوئے مہمانوں کو دور دو بٹھایا گیا۔


اسی طرح نوشہ فرخان صدیقی نے بھی اپنے تاثرات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی شادی کی تقریب کے لئے میرے بھی بہت سے ارمان تھے میں بھی چاہتا تھا کہ اپنے تمام قریبی دوستوں کو مدعو کروں کو اسی طرح سبھی رشتہ داروں کی موجودگی میں میری شادی ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ شاید اللہ یہ یہی مرضی ہے یہی سونچ کر اس سادگی کے انداز میں ہورہی شادی پر بھی میں خوش ہوں اور وہ نوجوان جن کی شادیاں طے ہوچکی ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اپنی شادیاں ملتو ی کررہے ہیں میں انہیں یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ آپ بھی اپنی طے شدہ تاریخوں کے مطابق شادی کرلے اور لاک ڈاؤن کے قوانین کی پابندی کا خیال کرتے ہوئے نہایت سادگی کے ساتھ تقریب نکاح کا اہتمام کرے۔خطبہ نکاح پڑھانے والے قاضی مولانا عبدالعظیم رضوی نے کہا کہ میں نے ابھی تک سیکڑوں شادیوں میں شرکت کی لیکن یہ اپنی نوعیت کی ایک انوکھی شادی نظر آئی۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت کی جانب سے جو پابندیاں لگائی ہے ان کا لحاظ کرتے ہوئے سادگی کے ساتھ یہ شادی ہوئی ہے ۔بہت اچھا لگا ۔کورونا وائرس ایک مہلک مرض ہے اور اس کو پھلنے سے روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے جو بھی ہدایتیں دی جارہی ہے ان کا لحاظ رکھنا یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے ۔حکومت نے پچاس لوگوں کی شرکت کی اجازت دی ہے یہ بھی خوش آئند بات ہے۔ان پچاس لوگوں میں دلہا اور دلہن دونون کی جانب سے اہم اہم افراد کی شرکت ممکن ہوگی ۔اس کے علاوہ علماء اور سماجی تنظیموں کی جانب سے بار بارکہا جاتا جارہاہے کہ آج کل جو شادیوں میں جوڑے گھوڑے کے نام سے بے جا رسومات پر عمل کیا جارہاہے اور فضول خرچیوں کی وجہ سے لڑکی والوں پر غیر ضروری اخراجات جا بوجھ ڈال دیا جاتاہے یہ بند ہونا چاہے اور نکاح کو آسان او ر سادگی کے ساتھ کرنا چاہئے اس طرح کی مہیمات بھی چلائی گئی لیکن معاشرہ میں سدھار نہیں آیا اب مگر جو پابندیاں لگائی ہے اس کی وجہ سے سادگی کے ساتھ شادی کرنا ممکن ہوگیاہے ۔محدود رتعداد میں مہمانوں کو بلانے سے جنہیں نہیں بلایا جاسکا ان کی ناراضگی کا کوئی ڈر نہیں ہے کیونکہ وجہ صاف ہے پابندیاں لگائی گئی ہے۔
First published: May 31, 2020 10:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading